Kabul

کابل

اس شہر کا نوحہ کیا لکھوں

جو ہمسرِ ہفت افلاک ہوا، جس کا دامن صد چاک ہوا

جس کی تسخیر کے پاگل پن میں

سترہ لاکھ نفوس کا خونِ ناحق رزق خاک ہوا

اب کون شمار میں لائے گا

کتنے بے گور و کفن لاشے، کتنے بے کس لاچار مہاجر،

کون شمار میں لائے گا

تہذیب کے سارے مظاہر سے اللہ کے نام کا بیر جسے

چھو کر نہ گزرا خیر جسے

یہ جُہلِ مرکب تھا جس نے، کتنے ہی دستِ جُود و سخا

دریوزہ گری میں جھونک دئیے

اِک نانِ شبینہ جس کا عوض، اِک ارزاں قحبہ کیا لکھوں

زخموں کا مداوا کیا لکھوں

کچھ بھی تو نظر سے اوجھل ہو، اے دیدۂ بینا! کیا لکھوں

اُس شہر کا نوحہ کیا لکھوں

شمشیر و سناں کی دوڑ میں کوسوں پیچھے رہ جانے والوں کا ذکر ہی کیا

اِک عمر پڑی ہے، طے کر لیں گے

ہنستے بستے شہر کی روشن گلیوں میں کس کس نے آگ لگائی تھی

پر یہ لاریب حقیقت ہے، سب اندر باہر والوں نے

اپنے مقدور سے بڑھ کر بھی اِس آگ کو روشن رکھا ہے

اُس شہر کا نوحہ کیا لکھوں؟

کوثر محمود

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(336) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Kausar Mahmood, Kabul in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 46 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Kausar Mahmood.