Taar Taar Perhan Mein Bhar Gayi Hai Boye Dost

تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست

تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست

مثل تصویر نہالی میں ہوں ہم پہلوئے دوست

چہرۂ رنگیں کوئی دیوان رنگیں ہے مگر

حسن مطلع ہیں مسیں مطلع ہے صاف ابروئے دوست

ہجر کی شب ہو چکی روز قیامت سے دراز

دوش سے نیچے نہیں اترے ابھی گیسوئے دوست

دور کر دل کی کدورت محو ہو دیدار کا

آئنے کو سینہ صافی نے دکھایا روئے دوست

واہ رے شانے کی قسمت کس کو یہ معلوم تھا

پنجۂ شل سے کھلیں گے عقدہ ہائے موئے دوست

داغ دل پر خیر گزری تو غنیمت جانیے

دشمن جاں ہیں جو آنکھیں دیکھتی ہیں سوئے دوست

دو مریں گے زخم کاری سے تو حسرت سے ہزار

چار تلواروں میں شل ہو جائے گا بازوئے دوست

فرش گل بستر تھا اپنا خاک پر سوتے ہیں اب

خشت زیر سر نہیں یا تکیہ تھا زانوئے دوست

یاد کر کے اپنی بربادی کو رو دیتے ہیں ہم

جب اڑاتی ہے ہوائے تند خاک کوئے دوست

اس بلائے جاں سے آتشؔ دیکھیے کیوں کر بنے

دل سوا شیشے سے نازک دل سے نازک خوئے دوست

خواجہ حیدر علی آتش

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(932) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Khwaja Haider Ali Aatish, Taar Taar Perhan Mein Bhar Gayi Hai Boye Dost in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 133 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Khwaja Haider Ali Aatish.