Phool Ki Khushbu Hansti Aayi

پھول کی خوشبو ہنستی آئی

پھول کی خوشبو ہنستی آئی

میرے بسیرے کو مہکانے

میں خوشبو میں خوشبو مجھ میں

اس کو میں جانوں مجھ کو وہ جانے

مجھ سے چھو کر مجھ میں بس کر

اس کی بہاریں اس کے زمانے

لاکھوں پھولوں کی مہکاریں

رکھتے ہیں گلشن ویرانے

مجھ سے الگ ہیں مجھ سے جدا ہیں

میں بیگانہ وہ بیگانے

ان کو بکھیرا ان کو اڑایا

دست خزاں نے موج صبا نے

بھولا بھٹکا ناداں قطرہ

آنکھوں کی پتلی کو سجانے

آنسو بن کر دوڑا آیا

میری پلکیں اس کے ٹھکانے

اس کا تھرکنا، اس کا تڑپنا

میرے قصے میرے فسانے

اس کی ہستی میری ہستی

اس کے موتی میرے خزانے

باقی سارے گوہر پارے

خاک کے ذرے ریت کے دانے

پربت کی اونچی چوٹی سے

دامن پھیلایا جو گھٹا نے

ٹھنڈی ہوا کے ٹھنڈے جھونکے

بے خود آوارہ مستانے

اپنی ٹھنڈک لے کر آئے

میری آگ میں گھل مل جانے

ان کی ہستی کا پیراہن

میری سانس کے تانے بانے

ان کے جھکولے میری امنگیں

ان کی نوائیں میرے ترانے

باقی سارے طوفانوں کو

جذب کیا پہنائے فضا نے

فطرت کی یہ گونا گونی

گلشن بن وادی ویرانے

کانٹے کلیاں نور اندھیرا

انجمنیں شمعیں پروانے

لاکھوں شاطر لاکھوں مہرے

پھیلے ہیں شطرنج کے خانے

جانتا ہوں میں یہ سب کیا ہیں

صہبا سے خالی پیمانے

بھوکی مٹی کو سونپے ہیں

دنیا نے اپنے نذرانے

جس نے میرا دامن تھاما

آیا جو مجھ میں بس جانے

میرے طوفانوں میں بہنے

میری موجوں میں لہرانے

میرے سوز دل کی لو سے

اپنے من کی جوت جگانے

زیست کی پہنائی میں پھیلے

موت کی گیرائی کو نہ جانے

اس کا بربط میرے نغمے

اس کے گیسو میرے شانے

میری نظریں اس کی دنیا

میری سانسیں اس کے زمانے

مجید امجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1954) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Majeed Amjad, Phool Ki Khushbu Hansti Aayi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 78 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Majeed Amjad.