Gaat Rabood

غت ربود

یہ موت کے دن ہیں

یا زندگی کے

کچھ پتا نہیں چلتا

افراطِ مرگ و زیست میں

سب کچھ اتنا عام ہو گیا ہے

کہ سیاہ و سفید میں

تفریق کرنا مشکل ہے

رات کے ساحل پر

روشنیوں کا پلازما لہراتا ہے

اور دن کا دریا

بغیر بجلی اور پانی کے

ٹھاٹھیں مارتا ہے

پگڈنڈیاں

شاہراہوں میں بدل گئی ہیں

اور ڈھوکیں

شہروں میں مدغم ہو کر

آبادی کا ملغوبہ بن چکی ہیں

دولت کی پھولاہٹ

اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ میں

فتورِ ہضم کا مارا

خور و نوش کا عادی

فاسٹ فوڈ کا دلدادہ ہجوم

یک سار ڈکارتا ہے

محبت، جذبوں کی نیلگوں تھاہ سے نکل کر

لفظوں کے اتھلے پن میں شپ شپاتی ہے

عمروں کی مسافت طے کرنے کے لیے

کہیں جانے کی ضرورت نہیں

ساری منزلیں ایک بٹن کی دوری پر ہیں

فاصلے ایک چھوٹی سی اسکرین میں سمٹ آتے ہیں

اور راستے

جوگنگ مشین پر

چلے بغیر ختم ہو جاتے ہیں

نصیر احمد ناصر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(250) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Naseer Ahmed Nasir, Gaat Rabood in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 28 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Naseer Ahmed Nasir.