Main Ne Zindagi Dobte Soraj Se Sekhi Hai

میں نے زندگی ڈوبتے سورج سے سیکھی ہے

کوئٹہ میں شام ہزاروں رنگ لیے ڈھلتی ہے

سرمئی،سرخ ،مالٹائی ،اودی ،دھانی اورجامنی رنگوں کا فیوژن

آسمانی رنگ کو اور گہرا کر دیتا ہے

یوں لگتا ہے دھنک پھیل کر چھتوں پر گرنے لگی ہے

پرندوں کی آخری اڑانوں کی سر مستی ہی اور ہوتی ہے

گلابی منظر کی موسیقی ماحول کو اور خواب ناک کر دیتی ہے

سورج پھسل کر جب چلتن سے نیچے گر جاتا ہے

تو زرغون، مردار اور تکتو آسمان کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں

آسمان کی ململی چادر تینوں اطراف سے ڈھلکنے لگتی ہے

مَیں ہوا کی تاروں پر انگلیاں رکھتی ہوں تو سرمدی ستار بجنے لگتا ہے

پرندے جاتے جاتے کچھ آیتیں فضا میں چھوڑ جاتے ہیں

آخری دستخط ہوتے ہی

سیاہی کی بوتل الٹ دی جاتی ہے

الوہی کوڈز مغرب کی اذانوں میں کھلتے ہیں

قندیل بدر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(991) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Qandeel Badar, Main Ne Zindagi Dobte Soraj Se Sekhi Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 19 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Qandeel Badar.