Bhool Ki Gumshudgi

بھول کی گمشدگی

رات کل بھی بھیگی ھیگی سی رہی

شاید چپکے سے روتی رہی۔

کچھ قطرے ٹیلفون تار پہ

لرزتے رھے گرتے رھے

آنکھوں کے کونے خشک تھے۔

پھر بھی تکیہ اپنی پیا س بجھاتا رہا۔

نمی پتوں سے ھوتی

میرے دامن پہ اٹکی رہی۔

میں نے کپڑوں کی الماری چھان ماری

کچن کے ہر کونے میں جھانکا

گملوں کی ساری مٹی نکال کر

ہر پودے کی ہر ٹہنی کی جڑ میں تلاشا

سٹور میں رکھے

پرانے سامان سے جڑی ہر یاد کو ادھیڑا

صبح سے رات تلک

ہر گزرتی ساعت کو ٹٹولتی رھی

نیند کے سرھانے

کسی ادھورے خواب کی آھٹ میں

پرانی خوشبو کے فیتے کی گرہ میں

سرما کے کپڑوں میں فینائل رکھتے

یادوں کے آنچل کی سرسراھٹ پہ پلٹتی

رو تی رہی

جانے کہاں رکھ بیٹھی ھوں۔

مجھے کبھی بھی

کہیں بھی

اپنے حصے کی خوشی نہیں ملتی۔

نیند بھی بستر پہ سوئی رہتی ھے۔

میں

خالی کمروں میں چکراتی پھرتی

اوندھے منہ گر جاتی ھوں۔

اور یوں

رات بیت ہی جاتی ھے

صفیہ حیات

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(823) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Safia Hayat, Bhool Ki Gumshudgi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 80 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Safia Hayat.