Tanhai Ke Baad

تنہائی کے بعد

جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا

تیرے ہونٹوں پہ مسلط ہے بڑی دیر کی پیاس

تیرے سینے میں رہا شور بہاراں کا خروش

اب تو سانسوں میں نہ گرمی ہے نہ آواز نہ باس

تو نے اک عمر سے بازو بھی نہیں پھیلائے

پھر بھی بانہوں کو ہے صدیوں کی تھکن کا احساس

تیرے چہرے پہ سکوں کھیل رہا ہے لیکن

تیرے سینے میں تو طوفان گرجتے ہوں گے

بزم کونین تری آنکھ میں ویران سہی

ترے خوابوں کے محلات تو سمجھے ہوں گے

گرچہ اب کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا

پھر بھی آہٹ پہ ترے کان تو بجتے ہوں گے

وقت ہے ناگ ترے جسم کو ڈستا ہوگا

یخ کر تجھ کو ہوائیں بھی بپھرتی ہوں گی

سب ترے سائے کو آسیب سمجھتے ہوں گے

تجھ سے ہم جولیاں کترا کے گزرتی ہوں گی

کتنی یادیں ترے اشکوں سے ابھرتی ہوں گی

زندگی ہر نئے انداز کو اپناتی ہے

یہ فریب اپنے لیے جال نئے بنتا ہے

رقص کرتی ہے ترے ہونٹوں پہ ہلکی سی ہنسی

اور جی کو کوئی روح کی طرح دھنتا ہے

لاکھ پردوں میں چھپا شور اذیت لیکن

دل ترے دل کے دھڑکنے کی صدا سنتا ہے

تیرا غم جاگتا ہے دل کے نہاں خانوں میں

تیری آواز سے سینے میں فغاں پیدا ہے

تیری آنکھوں کی اداسی مجھے کرتی ہے اداس

تیری تنہائی کے احساس سے دل تنہا ہے

جاگتی تو ہے تو تھک جاتی ہے آنکھیں میری

زخم جلتے ہیں ترے درد مجھے ہوتا ہے

شہزاد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1684) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shahzad Ahmed, Tanhai Ke Baad in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shahzad Ahmed.