Buhat Se Dukh

بہت سے دکھ

بہت سے دکھ

بہت سے دکھ دن آغاز ہوتے ہی

بدن کی گھپاؤں سے نکل کر

تھکن کے راستوں پر نکل جاتے ہیں

چائے میں ابال آنے تک۔

کتنے جذبے ابل ابل

دن کی طشتری سے باہر گر جاتے ہیں

میں انھیں آنسو بنا کر

آنکھوں میں محفوظ کر لیتی ہوں

کہ جب شدید پیاس لگے

تو یہ آگ بجھانے کا کام دیں

صبح سے دوپہر تک، چڑیوں کی طرح چہچہاتی لڑکیوں کا شور

تختہ ء سیاہ پر ناچتے حرف

درمیان، میں ایک ٹی بیگ، چائے

کا وقفہ

پھر سہہ پہر تک، جسم سے دماغ کی لڑائی

اور پھر رات، کسی چاند کی منتظر

بدن میں درد کی ٹیسیں

بستر کی شکنیں بے نیاز

تکئیے، بے خبر

جسم کا دکھ کون سمجھے

یہاں ایک ہاتھ کا دکھ

دوسرا ہاتھ نہیں سمجھتا

میری روح کا دوزخ کون دیکھے

شائستہ سحر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(274) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shaista Sehar, Buhat Se Dukh in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 55 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shaista Sehar.