Ankh Dikhlanay Laga Hai Woh Fasoon Saaz Mujhe

آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے

آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے

کہیں اب خاک نہ چھنوائے یہ انداز مجھے

کیسے حیراں تھے تم آئینے میں جب آنکھ لڑی

آج تک یاد ہے اس عشق کا آغاز مجھے

سامنے آ نہیں سکتے کہ حجاب آتا ہے

پردۂ دل سے سناتے ہیں وہ آواز مجھے

تیلیاں توڑ کے نکلے سب اسیران قفس

مگر اب تک نہ ملی رخصت پرواز مجھے

پر کتر دے ارے صیاد چھری پھیرنا کیا

مار ڈالے گی یوں ہی حسرت پرواز مجھے

زیر دیوار صنم قبر میں سوتا ہوں فلک

کیوں نہ ہو طالع بیدار پر اب ناز مجھے

بے دھڑک آئے نہ زنداں میں نسیم وحشت

مست کر دیتی ہے زنجیر کی آواز مجھے

پردۂ ہجر وہی ہستئ موہوم تھی یاسؔ

سچ ہے پہلے نہیں معلوم تھا یہ راز مجھے

یگانہ چنگیزی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(754) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Yagana Changezi, Ankh Dikhlanay Laga Hai Woh Fasoon Saaz Mujhe in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 45 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Yagana Changezi.