چرچا حکومت کے سودنوں کا

چرچا حکومت کے سودنوں کا عثمان بزدار چیف منٹسر شکایات سینٹرکا افتتاح

پیر دسمبر

charcha hukoomat ke so dinon ka
فرخ سعید خواجہ
ان دنوں موجودہ حکومت کے 100 دنوں کا چرچا ہے۔ پی ٹی آئی کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ یوں تو مختلف شعبوں میں کام جاری ہے جس کی خوبیاں اور خامیاں آئندہ ایک ہفتے تک خواص و عوام کے سامنے لاتے رہیں گے۔ تاہم وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پنجاب کے عوام کے مسائل کے حل میں تیز رفتاری لانے کے لئے چیف منسٹر شکایات سنٹر کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔

قبل ازیں خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت نے یہ تجربہ کیا اور اسے کامیاب قرار دیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس کی پیروی کی ۔ وزیراعظم ہائوس میں اس کام کا افتتاح کیا ۔ پنجاب میں چیف سیکرٹری کے دفتر میں ان ہی کی نگرانی میں یہ کام جاری تھا۔

(جاری ہے)

سو اب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے یہ کارخیر اپنی نگرانی میں کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ 28 نومبر کو اس سلسلے میں ا یوان وزیراعلیٰ 8 کلب روڈ پر ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی جس میں صوبے کے چیف سیکرٹری سمیٹ اہم بیورو کریٹس بھی موجود تھے۔ چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کے ویژن کے مطابق عوام کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ صاحب خود اس کام کی مانیٹرنگ کریں گے اور میڈیا سے فیڈ بیک لیتے رہیں گے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے عوام کے مسائل کے حل کو پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا اور بتایا کہ اس کا آغاز چار محکموں پولیس، ڈپٹی کمشنر آفسز تعلیم اور ہیلتھ سے کیا جا رہا ہے جبکہ بہت جلد اس کا دائرہ تمام محکموں اور صوبہ تک پھیلا دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے مختصر گفتگو کے بعد صحافیوں کو سوال کرنے کی دعوت دی۔ پہلا سوال جنوبی پنجاب میں منی سیکرٹریٹ قائم کرنے کے حوالے سے تھا جس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں کام جاری ہے اور جنوبی پنجاب پیکج کا اعلان وزیراعظم عمران خان کریں گے۔

اگلا سوال بلدیاتی نظام کے حوالے سے تھا۔ اُن سے پوچھا گیا کہ آپ والی جگہ پر بیٹھ کر وزیراعظم عمران خان نے بلدیاتی نظام کے لئے 48 گھنٹوں میں مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ وزیر بلدیات پنجاب و سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے بارہا کہا کہ 16نومبر کو پنجاب اسمبلی میں اس سلسلے میں بل لایا جائے گا لیکن آج تک کچھ نہیں ہوا؟ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے جواب دیا کہ انہوں نے بلدیاتی نظام کے حوالے سے بل اسمبلی میں لانے کے لئے کوئی تاریخ نہیں دی تھی۔

اُن سے بلدیاتی نظام کے خدوخال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جب بل آئے گا تو اس کے خدوخال پھر بتائیں گے۔ جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہاں کیا مصائب اور مشکلات ہیں آپ یہاں بیٹھ کر اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے، ہم نے تو بھگتا ہے، آپ لوگوں کو بھی ساتھ لیجا کر وہاں کے حالات دکھائوں گا۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ میرے گائوں میں تین ماہ میں بجلی پہنچ گئی ہے، اسے اب آگے جانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری حکومت ضلعی اصلاحات کمیٹیاں لا رہی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کے آنے والے اجلاس میں ہم ریکارڈ قانون سازی کریں گے پھر آپ اس کا پچھلی حکومت سے موازنہ کر لینا۔ پولیس کے حوالے سے سوالوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ہم ٹرانسفر پوسٹنگ نہیں کریں گے تو پھر کس لئے یہاں بیٹھے ہیں، یہ ہمارا انتظامی اختیار ہے۔

اس سوال پر کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ اصل میں کون ہے، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کھلکھلا کر ہنس دئیے اور سوال کرنے والے صحافی سے پوچھا کہ آپ نے آئین کی کتاب تو پڑھی ہو گی اس میں گورنر، وزیراعلیٰ سپیکر اور سینئر وزیر کے اختیارات درج ہیں۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھی کہ میں ہی پنجاب کا وزیر اعلیٰ ہوں اور میرے کام میں کوئی دخل نہیں دے رہا۔ اُن کا اعتماد بتا رہا تھا کہ اب وہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے خود کو منوانے کے لئے پرعزم ہیں تاہم اس سلسلے میں ان کے اردگرد افراد کو بھری مجالس میں ان کو لقمے اور مشورے دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

charcha hukoomat ke so dinon ka is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 10 December 2018 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.