بھارت آبی جارحیت سے پاکستان کی تباہی کے درپے

سندھ طاس معاہدہ یہود و ہنود کی مکارانہ سازش کا مکروہ جال تھا جس کی پذیرائی اہل مغرب نے کی

جمعرات 23 دسمبر 2021

سید طاہر عباس
پاکستان کے ساتھ بھارت کا آبی تنازع تقسیم ہند کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا کیونکہ ”بنیئے“ نے شروع دن سے ہی برصغیر کی تقسیم کو شروع دن سے ہی تسلیم نہ کرتے ہوئے پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں شروع کر دی تھیں تاکہ یہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکے اور کسی نہ کسی طرح اس کا محتاج اور دست نگر رہے اسی بناء پر سونا اُگلنے والی زرعی زمینوں کو بنجر کرنے کیلئے دریاؤں پر نت نئے ڈیم تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں آنے والے دریاؤں پر بند باندھنے کا کام ایک عرصہ سے جاری ہے جس کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 3 دریا راوی،ستلج اور بیاس تو سندھ طاس معاہدہ کے تحت ویسے ہی ”بنیئے“ کے قبضہ میں جا چکے ہیں،بگلیہار اور کشن گنگا ڈیم منصوبے کا آغاز 2009ء میں ہوا کے معاملے میں بھی عالمی بینک سے اس وقت رجوع کیا گیا جب ڈیم کی تعمیر کا بیشتر کام مکمل ہو چکا تھا،یاد رہے کہ یہ پاور سٹیشن پاکستانی سرحد کے قریب قائم کیا گیا۔

(جاری ہے)

1960ء میں پانی کی تقسیم کے معاملے میں عالمی ادارے کے نوٹس لینے سے بھارتی شرانگیزی سے بڑی حد تک نجات مل گئی تھی۔سندھ طاس معاہدے کے تحت یہ طے پایا تھا کہ دریائے سندھ کے نظام کے ساتھ جڑے ہوئے 6 دریا جو بھارت اور پاکستان کی حدود میں بہتے ہیں برابری کی سطح پر تقسیم کئے جائیں گے چنانچہ اس معاہدے کے تحت 3 دریا یعنی دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کی ملکیت اور راوی،بیاس اور ستلج بھارت کی ملکیت مان لئے گئے لیکن چونکہ اس کی نیت میں فتور تھا۔


بھارت جس تیزی کے ساتھ یکے بعد دیگرے ڈیموں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے ان کی تکمیل کے بعد پاکستان میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا اور دریا جہلم اور چناب جو پہلے ہی خشک ہوتے جا رہے ہیں مزید خشک ہو کر چٹیل میدان بن جائیں گے،یاد رہے کہ حال ہی میں اس نے اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر اور لداخ میں دریائے سندھ پر 8 نئے ہائیڈرو پراجیکٹس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے ایک جموں و کشمیر جبکہ 7 منصوبے لداخ میں ہوں گے۔

272.03 کروڑ روپے کی لاگت سے لداخ میں ڈر بکشیو ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ 30 ماہ کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔2005ء میں مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے حصے کے دریا جہلم کے معاون دریا کشن گنگا پر جو پاکستان میں دریائے نیلم کے نام سے جانا جاتا ہے ایک پن بجلی پلانٹ تعمیر کرنے کا یک طرفہ اعلان کر دیا حالانکہ معاہدے کے تحت بھارت اس کا قطعی مجاز نہیں تھا۔


ڈیموں کی تعمیر سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا موجودہ حالات میں تو ان کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے لیکن مفاد پرست ٹولے نے کالا باغ ڈیم جس میں دریائے سندھ کے علاوہ دریائے کابل،کنٹر،سوات،دیر اور سوان کا پانی بھی جمع ہو سکتا ہے کی تعمیر کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھائے رکھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ توانائی بحران سے پاکستان کا معاشی ہب اور روشنیوں کا شہر کراچی اندھیروں میں ڈوب گیا۔

دنیا بھر میں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 10 لاکھ کے قریب ہے جن میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 90 ہزار کیوبک کلو میٹر ہے ان میں سے 50 ہزار ایسے بڑے ڈیمز ہیں جن کی اونچائی 2 سو فٹ سے زیادہ ہے۔پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں 1974ء کے بعد اگر کسی دور میں ڈیم بنانے کی کوشش بھی کی گئی تو اسے مفاد پرست ٹولے نے پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا۔

ڈیموں کی تعمیر اور پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات نہ ہونے سے اوسطاً سالانہ 30 ملین ایکڑ فٹ کے لگ بھگ پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ امریکہ دریائے کلو ریڈا پر 9 سو،مصر دریائے نیل پر ایک ہزار اور جنوبی افریقہ دریائے اورنج پر 5 سو دن پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کے برعکس پاکستان صرف 30 دن پانی ذخیرہ کر سکتا ہے جو انتہائی پریشان کن صورتحال ہے،افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ 1951ء میں پاکستان میں پانی کی دستیابی فوکس سالانہ 5 ہزار 260 مکعب میٹر تھی جو کہ آبادی میں اضافے اور ذخائر کی عدم موجودگی کے باعث اب کم ہو کر ایک ہزار مکعب میٹر سالانہ ہو گئی ہے۔

پانی ذخیرہ نہ ہونے کے باعث پاکستان کو سالانہ 29 ملین ایکڑ فٹ تقریباً 21 ارب ڈالر مالیت کا پانی سمندر میں پھینکنا پڑتا ہے جبکہ دنیا بھر میں اوسطاً یہ شرح 8.6 ملین ایکڑ فٹ ہے۔
زراعت،توانائی کے شعبے میں بحران اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے مسائل کے شکار پاکستان میں صرف 18 ڈیم ”اونٹ کے منہ میں زیرہ“ کے مترادف ہیں،ہر سال صاف پانی کی عدم دستیابی سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور جبکہ ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

بھارتی آبی جارحیت کے منصوبے جو برسوں پہلے ہی منظر عام پر آگئے تھے کی روک تھام کیلئے سنجیدگی سے کوئی نوٹس نہیں لیا گیا جس کا ملک دشمن عناصر نے خوب فائدہ اُٹھایا لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر اور لداخ میں دریائے سندھ پر 8 نئے ہائیڈرو پراجیکٹس شروع کرنے کے حالیہ فیصلہ کیخلاف بروقت عالمی بینک کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں کہ تحریک انصاف آبی ذخائر کی ضرورت پر سنجیدگی سے کام کرتی نظر آرہی ہے اور اس سلسلے میں تحصیل دو بندی،گلستان قلعہ اور بھنڈار میں سٹوریج ڈیموں کے علاوہ خضدار میں دارا ڈیم،کوئٹہ میں منگی ڈیم،لورالائی میں ماڑہ تنگی،مہمند،بھاشا،کرم تنگی،نئی گاج اور نولانگ ڈیم سمیت متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ مودی کی آبی جارحیت کا ہر صورت مقابلہ کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے ورنہ ہماری آنے والی نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے عالمی عدالت انصاف میں چیلنج کرکے کالا باغ سمیت دیگر ڈیموں کی تعمیر کو یقینی بنانے کیلئے احکامات جاری کریں تاکہ مستقبل میں درپیش آنے والے مسائل کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

India Aabi Jarhiyat Se Pakistan Ki Tabahi Ke Darpe is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 23 December 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.