”میانمار“تاریخ کے تاریک دوراہے پر

آئین میں تبدیلی اور انتخابی نتائج کی توثیق کے خوف نے فوج کو مارشل لاء پر مجبور کیا

ہفتہ فروری

Myanmar Tareekh Ke Tareek Dorahe Par
محبوب احمد
میانمار میں حالات کبھی سازگار نہیں رہے کیونکہ روہنگیائی مسلمانوں پر کئی عشروں سے ڈھائے جانے والے مظالم جن کو تحریر کرتے وقت دل خون کے آنسو روتا ہے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔مسلم ممالک کی فرقہ ورانہ بنیادوں پر تقسیم،اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی چشم پوشی کے باعث برما میں خواتین کی عصمتیں محفوظ نہیں رہیں،چشم عالم نے بھارت کی طرح مساجد کو شہید کرکے اراضی پر قبضے کرنے اور مسلمانوں کو زندہ جلانے جیسے روح فرسا واقعات بھی دیکھے،خوراک کی عدم دستیابی کے باعث سمندر کے پانی سے پیاس بجھاتے بجھاتے اپنی زندگیوں کے چراغ گل کرنے والے روہنگیائی مسلمان مردہ انسانوں کا گوشت کھانے پر بھی مجبور ہوئے لہٰذا اب گزشتہ دنوں جمہوری حکومت کیخلاف فوجی بغاوت نے خوف و ہراس کا سماں پیدا کر رکھا ہے۔

(جاری ہے)

50 برس سے زائد عرصہ تک برسراقتدار رہنے کے بعد لگ بھگ ایک دہائی قبل ملک سے طویل ترین جابرانہ آمریت کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے اقتدار ایک سویلین حکومت کے حوالے کرنے والی فوج کا ایک مرتبہ پھر سے مارشل لاء نافذ کرکے سیاسی حکمرانوں کو پابند سلاسل کرنا لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے۔
سول حکومت کیخلاف بغاوت کے لئے یہ وقت کیوں چنا گیا؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو اب زبان زد عام ہے لیکن اس امر کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کر سکتا کہ آئین میں تبدیلی اور انتخابی نتائج کی توثیق کے خوف نے فوج کو مارشل لاء پر مجبور کیا ہے،یہاں یہ بھی یاد رہے کہ جس وقت ملک میں مارشل لاء کا نفاذ کیا گیا اسی روز سوچی کی پارٹی کو اقتدار میں اپنی دوسری مدت کا آغاز کرنا تھا لیکن پس پردہ رہتے ہوئے فوج نے معاملات پر اپنی گرفت انتہائی مضبوط رکھی اور ایسا میانمار کے آئین کی وجہ سے ہی ممکن ہوا جس کے تحت پارلیمان اور ملک کی طاقتور ترین وزارتوں کا ایک چوتھائی حصہ فوج کو جاتا ہے۔

انتخابات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ فوج کی حمایت یافتہ جماعت یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی(یو ایس ڈی پی)کچھ ووٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی لیکن فوج اس کے باوجود حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی رہی۔
 2008ء کا آئین جو فوجی جنتا کی حکومت کے دوران تشکیل دیا گیا تھا اسی کی بدولت فوج کو داخلہ،دفاع اور سرحدی امور کی وزارت سمیت پارلیمان میں ایک چوتھائی سیٹیں ملتی ہیں جب تک یہی آئین رہے گا فوج کا اثر و رسوخ قائم رہے گا جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ”این ایل ڈی“ کو آئین تبدیل کرنے کی کوشش پر یہ سزا دی گئی۔

آنگ سان سوچی اور دیگر سیاستدانوں کی گرفتاریوں نے ان دنوں کی درد ناک یاد پھر سے تازہ کر دی جن کے حوالے سے بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ وہ ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔معزول رہنماء کے گھر کی تلاشی کے دوران 6 واکی ٹاکی ریڈیو ملنے پر غیر قانونی طور پر مواصلاتی آلات کی درآمد کے الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں۔نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی نے انتخابات میں 80 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے ملکی اقتدار کی بھاگ ڈور سنبھال رکھی تھی یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کے سنگین الزامات کے باوجود یہ پارٹی بہت زیادہ مقبول رہی۔

میانمار کا الیکشن کمیشن بھی کثیر جماعتی عام انتخابات میں ووٹر لسٹ میں موجود بڑی بے ضابطگیوں کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔فوج کی حمایت یافتہ اپوزیشن نے انتخابات کے فوراً بعد ہی دھوکہ دہی کے الزامات لگانا شروع کر دئیے تھے لہٰذا انہی کو نئے قائم مقام صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک دستخطی بیان میں دہرایا گیا اور ایسا شاید اس لئے کیا گیا تاکہ فوج کی جانب سے اعلان کردہ ایمرجنسی کے نفاذ کو جواز فراہم کیا جا سکے۔


امریکی صدر جوبائیڈن کا میانمار میں فوجی بغاوت کو جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی جانب گامزن ملک پر براہ راست حملہ قرار دینا اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے۔جمہوری نظام کو لپیٹنے کی وجہ سے پابندی سے متعلق امریکی قوانین کا نفاذ لازمی ہے اور یہ بھی بعید از امکان نہیں کہ حکام کی جانب سے اس پر غور کے بعد میانمار کے خلاف جو بھی ضروری ہو کارروائی کی جائے گی۔

امریکہ،برطانیہ،بھارت،آسٹریلیا،کینیڈا سمیت عالمی برادری میانمار میں مارشل لاء کی سخت الفاظ میں مذمت کر رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جمہوریت کے یہ نام نہاد علمبردار فلسطین، کشمیر،چیچنیا،بوسنیا،میانمار،عراق،شام،افغانستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں انسانی حقوق کی پامالی اور بے گناہ افراد کے قتل عام پر خاموش تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں؟۔

بھارت کی شروع دن سے ہی کوشش رہی ہے کہ وہ میانمار سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ میانمار،بنگلہ دیش اور بھوٹان کے زمینی راستے بھارت کے ان 7 صوبوں سے ملے ہوئے ہیں جہاں چین اگر سلی گوڑی کے علاقہ کو بھارت سے کاٹ کر اس پر قبضہ کر لے تو ان میں سے کئی صوبے اپنی آزادی کا اعلان کر دیں گے اور اگر ایسا ہوا تو پھر یہ مودی کی موت ہو گی لہٰذا صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے ماضی میں بھارتی حکمرانوں نے میانمار کے متعدد دورے بھی کئے تھے۔


بھارت میں کاشتکاروں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد لال قلعے پر خالصتان پرچم کا لہرایا جانا اور اب میانمار میں مارشل لاء کے نفاذ سے بھارتی حکومت مکمل طور پر گھر چکی ہے یہی بڑی وجہ ہے کہ امریکہ اور بھارت سمیت تمام بڑے ممالک جو چین کے خلاف ہیں وہ اس معاملے پر اب اکٹھے ہو چکے ہیں تاکہ برما میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کروا کر مودی کے ہاتھ مزید مضبوط کئے جائیں۔

میانمار بہت جلد ایک بار پھر ”خارج شدہ ریاست“ بن سکتی ہے جس سے ملکی شہری بھی ناخوش ہیں کیونکہ مستقبل میں وہ فوج کے ساتھ آگے جانا نہیں چاہتے، وہ آنگ سان سوچی کو”آمریت“ کے خلاف ایک دیوار کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنا ہو گی کہ اگر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تو یہ ایک ایسے بحران میں تبدیل ہوں گے جس کا نتیجہ ماضی میں ہونے والی تباہی سے بھی بھیانک ہو گا۔


بدھ مت کے انتہاء پسندوں کے ہاتھوں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام کی داستان انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لئے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ۔اقوام متحدہ بھی میانمار کی سکیورٹی فورسز پر ماضی میں یہ الزامات عائد کر چکی ہے کہ وہ سنجیدہ نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے جن میں گینگ ریپ،بچوں کا تشدد کے بعد قتل عام شامل ہیں لیکن افسوسناک المیہ یہ ہے کہ ان کی روک تھام کیلئے کبھی بھی کوئی ایک اقدام دیکھنے کو نہیں ملا۔

1947ء میں روہنگیا رہنماؤں نے حریت پسند تحریک شروع کی تھی تاکہ اراکان کو ایک مسلم ریاست بنا سکیں۔1962ء تک یہ تحریک کافی متحرک رہی لیکن فوج نے جنگی کارروائیاں کرتے ہوئے بڑی تعداد میں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔1978ء میں ”آپریشن کنگ ڈریگون“ ہوا،اس دوران کافی تعداد ہجرت کرکے پاکستان بھی آئی۔ماضی کے ان سارے واقعات نے موجودہ حالیہ بحران کو جنم دیا ہے کہ جب ہزاروں روہنگیائی مسلمان عشروں سے جاری ظلم و ستم سے بچنے کے لئے دوسرے ممالک کی طرف ہجرت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

برما میں بچوں،خواتین سمیت مسلمانوں کو جلی ہوئی نعشوں کے ڈھیر دور قدیم میں ہونے والی قتل و غارت گری کی یاد تازہ کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود عالمی برادری مسلمانوں کی نسل کشی کا نوٹس نہیں لے رہی؟جو ایک سوالیہ نشان ہے۔مہاجر کیمپوں میں نقل و حرکت،تعلیم اور شادیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں،اسی طرح ان پر مختلف قسم کے ظالمانہ ٹیکس،زمین کی ضبطگی اور گھروں کو مسمار کرنے جیسے مظالم بھی ڈھائے جا رہے ہیں۔

1991-92ء میں بھی فوج اور پولیس کی طرف سے جبری مشقت اور معمولی بات پر قتل کرنا عام سی بات بن چکی تھی لہٰذا جان بچا کر قریبی ممالک کا رخ کرنے والے پناہ کے متلاشی بھی بدترین صورتحال کا شکار ہوئے کیونکہ بنگلہ دیش نے انہیں اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اب بھی بنگلہ دیشی حکومت روہنگیائی مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔


میانمار کے سیاسی منظر نامے میں صرف فوج کی کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں کا راج رہا ہے۔1988ء میں اقوام متحدہ سے ملازمت چھوڑ کر میانمار آکر سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنے والی سوچی نے جو نئی جماعت”نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی“ بنائی تھی بظاہر اسے بھی فوج کے ایسے سابق افسران کی ہی پشت پناہی رہی جو حاضر سروس فوجی افسران سے شدید اختلافات رکھتے تھے۔

عوام میں طویل فوجی اقتدار کے خلاف اور جمہوریت کی حمایت میں اس نے کچھ اس طرح راہ ہموار کی کہ صرف 2 سال بعد ہی 1990 ء میں ہونے والے انتخابات میں این ایل ڈی میانمار فوج کی کٹھ پتلی جماعتوں کو شکست دیتے ہوئے نہ صرف کامیاب ہو گئی بلکہ 81 فیصد ووٹ حاصل کرکے آمریت پسندوں کے لئے ایک واضح خطرہ بن گئی۔اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہیں کہ مادام سوکی کے تعلقات فوج سے ہمیشہ ہی دوستانہ رہے۔

2010ء جب ان کو نظر بندی سے رہا کرکے ملکی اقتدار سونپا گیا تھا تو یہ ایک عجیب حکومت تھی جسے کوئی بھی جمہوریت کا نام نہیں دے سکتا کیونکہ اسمبلی کی 25 فیصد نشستیں آئین کی رو سے فوج کے پاس تھیں۔مادام سوکی کو وزیراعظم کہنے کی بجائے ”سٹیٹ قونصلر“ بھی کہا جاتا رہا ہے اور آج بھی منظور نظر افراد کو نوازہ جا رہا ہے۔ملک کے ہر شعبے میں برما آرمی کی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور اس کا عمل دخل کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں یہی وجہ ہے کہ”نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی“(این ایل ڈی) کا تختہ آناً فاناً الٹا دیا گیا۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Myanmar Tareekh Ke Tareek Dorahe Par is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 13 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.