پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا جمہوری فارمولا کیا؟

بلاول‘مریم کا”سیاسی تصفیہ“اندیشوں اور وسوسوں میں اپوزیشن کا اتحاد دیر پاثابت نہیں ہو گا

پیر جولائی

peoples party or noon league ka jamhori formula kiya
 راؤ محمد شاہد اقبال
پاکستان پیپلز پارٹی کے چےئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز کے درمیان جاتی امر ا میں ہونے والی ملاقات پرعدیم ہاشمی سے انتہائی معذرت کے ساتھ اُن کے دو اشعار میں اپنی جانب سے تھوڑا سا ”تجاہلانہ تصرف “کرتے ہوئے پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
”رابطے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا،
سامنے بیٹھا تھا جس کے وہ کبھی اس کا نہ تھا
آج مصلحت نے آشنا دونوں کو بنا دیا عدیم
ورنہ کبھی اک دوسرے کو انہوں نے پہچانا نہ تھا“
امید ہے کہ عدیم ہاشمی اپنے اچھے بھلے اشعارکا اس قدر حال سے بے حال ہو جانے پر بالکل بھی بُرا نہیں منائیں گے۔

ویسے ہی جیسا کہ گزشتہ 70برسوں سے پاکستان کی غریب ومقہور عوام مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے بزرگوں کے”کرپشن زدہ ہاتھوں“بار بار وطن عزیز پاکستان کے وسائل کا حلیہ خراب کرنے پر ذرا برابر بھی بُرا نہیں مناتے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کے لاکھوں کارکنان کے نزدیک آج بھی غریبوں کی اصل ترجمانی اور حقیقی نمائندگی کرنے کے تمام ترجملہ حقوق میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری کے بعد ان کے لاڈلے بچوں بالترتیب مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کو مشترکہ طور پر تاحیات تفویض شدہ ہیں ،کسی کی کیامجال ہے کہ جو پاکستان کے ان امیر ترین بچوں سے غریبوں پر حق حکمرانی کرنے کے اختیار پر نقطہ اعتراض اُٹھا سکے۔

(جاری ہے)


مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے بیچ اگر تھوڑا بہت اختلاف ہے تو وہ بس اتنا ساہے کہ غریبوں پر حکمرانی کا زیادہ حق کس کا ہے ،شاید اسی تنازعہ کے ”سیاسی تصفیہ “کے لئے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کی غریب اور لا چار عوام پر حکومت کرنے کا”جمہوری فارمولا“کیاہو گا ،مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری ایک دوسرے سے بار بار ملاقات کررہے ہیں ۔

مظلوموں کی نجات دہندہ مریم نواز ،اپنے مہمان بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ظہرانہ نوش جاں فرماتے ہوئے شاید یہ بھول گئی تھیں کہ آج سے ٹھیک 5سال قبل 17جون2014 ء کو اُن کے قابل احترام چچا جان میاں محمد شہباز کے دور وزارت اعلیٰ میں ہی ماڈل ٹاؤن لاہور میں تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے سے سیکیورٹی بےئررزہٹائے جانے کے لئے آپریشن کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2خواتین سمیت 14افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔


اس واقعے کے چند روز بعد مقامی پولیس کی مدعیت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر درج ہوئی جس کا نمبر 510تھا۔14افراد کی ہلاکت اور زخمیوں کو انصاف کے حصول کے لئے عوامی تحریک نے لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا،اسلام آباد میں طویل دھرنا دیا گیا۔جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایک اور ایف آئی آر نمبر 696درج کی گئی جس میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ،شہباز شریف ،خواجہ سعدرفیق ،اس وقت کے آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا،اس وقت کے ڈی سی اولاہور کیپٹن(ر)محمد عثمان سمیت کئی حکومتی شخصیات اور افسران کو نامزد کیا گیا تھا۔

مگرکسی بھی نامزد ملزم کی گرفتاری تاحال عمل میں نہ آسکی۔
اگر بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کی ملاقات کے اختتام پر جاری کےئے جانے والے مشترکہ اعلامیہ میں ایک ہلکا ساذکر ماڈل ٹاؤن کے ”مظلوموں “کا بھی ہوجاتا تو کتنا ہی اچھا ہو جاتا۔کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ماڈل ٹاؤن لاہورکے متاثرین مریم نواز کی ”سیاسی لغت“میں مظلوم کے بجائے ظالم کی ذیل میں درج کر دےئے گئے۔

مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف بجٹ عوام اور ملک دشمن ہے ،جسے کسی بھی صورت منظور نہیں ہونے دیا جائے گا،میرے خیال یہ وہ واحد تحفہ جو یہ دونوں رہنما اگر چاہیں تو با آسانی حکومت کے ہاتھوں سے چھین کر اپوزیشن کی جھولی میں ڈال سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری اپنے کہی گئی بات پر نہ صرف قائم رہیں بلکہ اس کو ثابت کرنے کے لئے قومی اسمبلی میں کچھ تحریک بھی پیدا کریں۔


کیونکہ سب جانتے ہیں کہ خالی خولی سیاسی بیانات سے بجٹ کو پاس ہونے سے نہیں روکا جا سکتا۔جبکہ مریم اور بلاول نے اعلامیہ میں ایک جگہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں سے روابطہ استوار کرنے کا بھی اعادہ کیا ہے ۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن گزشتہ 6ماہ سے مسلسل رابطوں پر رابطے ہی تو کررہی ہے اور اپوزیشن کا شاید ہی کوئی ایسا رہنما ہو،جوان چھ ماہ میں ایک دوسرے سے مل نہ چکا ہو۔

کبھی اپوزیشن مولانا فضل الرحمن کے گھر جمع ہوتی ہے ،کبھی زرداری ہاؤس میں ایک دوسرے کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ جاتی ہے اور کبھی دعوت افطار کے دستر خوان پر جمع ہو کر ایک بار پھر سے جمع ہونے کا اعلان کرنے کے بعد تتر بتر ہو جاتی ہے ،اس کے علاوہ اپوزیشن رہنما قومی اسمبلی میں تو آئے روز ہی جمع ہوتے رہتے ہیں۔
حیرت ہے کہ اپوزیشن کے درمیان اتنے گہرے سیاسی رابطے ہونے کے باوجود بھی نہ جانے کون سے ایسے سیاسی رابطوں کا خواب دیکھا جارہے کہ جس کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا جاسکے۔

جاتی امراء میں مریم نواز سے دو بدوطویل ملاقات کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ”امید ہے کہ مریم نواز سچائی سے چلیں گی“شاید ایسی ہی کوئی بات بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں مریم نواز کے دل میں بھی چوری چوری پرورش پارہی ہو۔بہر حال بلاول بھٹو زرداری کے اس چھوٹے سے ایک جملہ سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میثاق جمہوریت کے دو نئے کسٹوڈین ایک دوسرے سے متعلق کس درجہ کمال کی خوش گمانیوں میں مبتلا ہیں ۔

شاید بلاول بھٹو زرداری کو اندیشہ ہے کہ مریم نواز ان کاسیاسی کندھا استعمال کرتے ہوئے اپنے والد میاں محمدنواز شریف کے لئے لندن کا ٹکٹ ہی نا حاصل کرلیں جبکہ مریم نوازکو بھی کم یا زیادہ یہ وہم تو ضرور ہی ہو گا کہ کہیں بلاول ان کے ’‘’دست سیاسی “کی بدولت اپنے والدہ اور پھو پھوکے لئے ڈھیل اور ڈیل ہی نہ لے لیں،اب آپ خود سوچ سکتے ہیں جہاں دو ملنے والوں کے بیچ ایک دوسرے سے متعلق اتنے زیادہ ابہام اور اندیشے ہوں ،وہاں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا خواب خاک پورا ہو گا۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

peoples party or noon league ka jamhori formula kiya is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 01 July 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.