لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 مئی2026ء) چیئرمین
پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہاہے کہ ہم دہشت گردوں سے ڈرنے والے نہیں ،وحشت ا ور دہشت پر سر نڈر نہیں کریں گے، اب افغانی عبوری حکومت سے دو ٹوک بات کرنا ہوگی کہ بہت ہوگیا اب خونی بازار بند کرنا پڑے گا،
بنوں میں
پولیس کے 20 شہداء کے نماز جنازہ میں کوئی حکومتی شخصیت موجود نہیں تھی ،وزیر اعلی خیبر پختوانخواہ اور وزیر داخلہ کہاں تھے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نظام المدارس
پاکستان کے زیر اہتمام معرکہ حق اتحاد، استحکام و قومی یکجہتی عظیم پیغام ،بنیان المرصوص کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس سے چیئرمین متحدہ
علما ء کونسل مفتی انتخاب احمد نوری ، ناظم اعلی تحریک منہاج القرآن خرم نواز گنڈا پور ، سربراہ منہاج الحسین
ڈاکٹر محمد حسین اکبر ،مفتی غلام اصغر صدیقی، علامہ توقیر صدیقی، علامہ مفتی زبیر احمد ، مفتی شاہد عبید ، حافظ سعد عبید اشرفی، پرویز اکبر ساقی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
(جاری ہے)
طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ معرکہ حق میں فتح تب ملی جب ملکی قیادت نے فجر سے پہلے دو نفل ادا کرکے فیصلہ کیا ،جودشمن رات کے اندھیرے میں
حملہ آور ہوا اس کو دن کی روشنی میں چند گھنٹے میں شکست دیدی،
مودی کہتا رافیل آنے دو
تباہی مچا دوں گا لیکن ہمارے شاہینوں نے انہیں خاک چٹا دی،
ٹرمپ نے
مودی کے گیارہ رافیل طیارے گرائے کااعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مذہبی تعصب اور نفرت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ماہ رمضان میں حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو ڈاکٹر
طاہر القادری نے اپنا کلیدی کردار ادا کیا، مذہبی طبقہ میں شعور ہوا کہ اگر اپنے درمیان بنیان المرصوص ہو جائے تو پھر کوئی ہمارا کچھ نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ
بنوں اور لکی مروت میں خون کی ہولی کھیلی گئی ،وزیر اعلی خیبر پختوانخواہ اوروزیر داخلہ مہربانی فرمائیں وہاں تشریف رکھیں۔
پولیس شہداء کے جنازے میں کوئی حکومتی شخصیت موجود نہیں تھی ،کیا یہ ہماری قوم کے بیٹے نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ
علما ئے کرام کو اس لئے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ امن کی بات کرتے ہیں،وہ
فیلڈ مارشل کو سلام کرتے ہیں،ہم دہشتگردوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں ، ہم نے ہزاروںقربانیاں پیش کی ہیں۔
مولانا
سمیع الحق کو
شہید کیا گیا ،مدارس کے مہتم
شہید ہو رہے ہیں ،سرفراز نعیمی کو
شہید کیاگیا، ہم وحشت ا ور دہشت پر سر نڈر نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سہولت کاروں کو
افغانستان اچھا لگتا ہے تو پھر وہیں چلے جائیں ،لکی مروت میں سکول ،پل ،مہراب و منبر کو اڑایا جا رہا ہے ،اب افغانی عبوری حکومت سے دو ٹوک بات کرنا ہوگی کہ بہت ہوگیا اب خونی بازار بند کرنا پڑے گا، یہ جوفساد کرنے والے
قاتل دہشتگرد ہیں وہ خوارجی ہیں ،ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ،قومی سلامتی کے ادارے ان کے خلاف
جہاد کررہے ہیں، ظلم اور بے گناہوں کے
قتل اور ڈرونز سے خواتین و بچوں کے
قتل کو
جہاد نہیں کہا جا سکتا، انہوںنے کہا کہ ریاست سے کہتے ہیں خیبر پختوانخواہ اوربلوچستان جسم کا حصہ ہے
،وزیراعظم ،وزیر داخلہ اور وزیر اعلی کو کہیں گے لکی مروت جا کر بیٹھیں ان کے زخم پر مرہم رکھیں، ہم اپنے استعداد کے ساتھ ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں ،اس خون کی ہولی کو قبول نہ کریں، قرآن و سنت کے مطابق ملا ہیبت اللہ
علما ء کی سو رکنی کمیٹی یا
جرگہ بنائیں
،دنیا کے
علما ء ثالث بنیں گارنٹی دیں ،اگر
قتل و قتال فساد بربریت کرنے والوں کو خود سزا دیں گے یا پھر ہمارے حوالے کریں۔
بنوں میں لوگوں کی لاشیں دیکھ دل دہل گیا ،ہم گونگے شیطان بن کر نہیں بیٹھ سکتے ،اللہ کو کیا جواب دیں گے کہ اپنے
کاروبار و مفادات کے لئے بیٹھے تھے، اگلے جمعہ کو افغان
دہشت گردی پر مساجد میں خطبات ہوں گے۔سوالات کے جوابات دیتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ
قطر بحرین امارات کی اپنی پالیسیاں ہیں،ہمیں
سعودی عرب یا
ایران نے تعلقات ختم کرنے کا کبھی نہیں کہا
،قطر واحد ملک ہے جس کے
ایران سے تعلقات کا معیار بہترین ہے، اگر
سعودی عرب میں سیاست پر بات کروں گا تو وہ مجھے بھی
جیل میں ڈال دیں گے، ہر ملک کی اپنی پالیسی ہے ،خلیجی ممالک میں پچاس لاکھ پاکستانی رہتے ہیں اور اربوں
ڈالر کی ترسیلات
پاکستان آتی ہیں،امارات اور
قطر میں بیس لاکھ پاکستانی ہیں ،متنازعہ بیانات سے تعلقات خراب ہوتے ہیں، دوست ممالک سے گلے شکوے ہو سکتے ہیں
،اسرائیل تو چاہتا ہی یہی ہے کہ اسلامی ممالک آپس میں لڑ پڑیں۔
خرم نواز گنڈا پور نے اپنے خطاب میں کہا کہ معرکہ حق بنیان المرصوص کو ایک سال ہوگیا جس میں ائیر فورس و پاک
فوج نے اہم کردار ادا کیا، ملٹری تاریخ کی کتاب میں معرکہ حق سنہری حروف میں لکھا جائے گا، مغربی اقوام میں پاک
فوج کی جدید
ٹیکنالوجی کی صلاحیت نے ایک سرپرائز دیا ہے، معرکہ حق میں قیادت و قومی یکجہتی تکنیکی مہارت کو بہتر سے بہتر کیا گیاجس کی عملی شکل آپریشن بنیان المرصوص میں دیکھی گئی ،اگرچہ ملک
معاشی طورپر کمزور ہے لیکن پانچ گنا بڑے دشمن
بھارت سے مقابلہ کیا جا رہا ہے
،پاکستان پانی کی
قلت کا شکار ٹاپ دس ملکوں سے ایک ملک ہے ،آبی ذخائر پر کام کرنا ناگزیر ہے، پاک
فوج ،حکومت اورعدلیہ ایک پیج پر ہیں تو اس معاملے میں اصلاحات کرنا ہوں گی، بنیادی
تعلیم کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، اگر ہم جہاز بنا سکتے ہیں تو موٹرسائیکل کا انجن کیوں نہیں بنا سکتے، توانائی بحران اور صحت پر کام کرنے کی ضرورت ہے، آج بھی اکھنڈ
بھارت کی بات ہو رہی ہے
،اسرائیل کہتا ہے جب
ایران پر قبضہ کر لیں گے تو پھر بھارت
پاکستان پر
حملہ کرے گا، عسکری طورپر جتنے مضبوط ہیں اتنے ہی
معاشی طورپر بھی مضبوط ہونا ہوگا۔
مفتی انتخاب احمد نوری نے کہا کہ معرکہ حق بنیان المرصوص کی کامیابی پر پاکستانی فخر کررہا ہے
،مودی اور
یہودی ایک پلیٹ فارم سے ہیں اور انہوںنے ایک ڈیزائننگ سے دہشتگردی شروع کی
،پاکستان میں خود کش
حملہ جائز نہیں ہے ،پاک
فوج نے یہودی
بھارتی دہشت گردوں ڈیزائنروں کی کمر توڑ دی ہے اور پرزوں اور کچروں کو بھی ختم کردیا جائے گا، پاک
فوج اداروں ایجنسیوں کا بھرپور ساتھ دیں کیونکہ
پاکستان دنیا میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔