Mere Awaz Sunte Ho

مری آواز سنتے ہو

مری آواز سنتے ہو ......... ابرار احمد

-------------------

تمہیں دیکھا تھا میں نے

اپنے چاندی جیسے بازو کھول کر

مستی میں لہراتے ہوئے

سکرین پر

آواز کے رنگوں کے چھینٹوں میں ..

مگر تم آج میرے سامنے کیسے

کدھر سے آ گئے ہو

کس تمنا کا بلاوا ہو

مرے کس رنج کی کروٹ ؟

مرے ماتھے پہ چسپاں

روشنی کے رو بہ رو تم ہو ؟

یہ میرے سامنے ، کاغذ پہ کس کا نام لکھا ہے ؟

یہ کیا افسوں ہے

کیسی شام ہے

بارش سی گرتی ہے ----

مری آواز سنتے ہو

کہ پچھلی رات سے

اک جال میں الجھا

کسی بے نام سے اک خواب میں

تم سے کہے جاتا ہوں

کیا کیا کچھ ---

کہیں بستر پہ ، جانے کس طرف سے

گرتی آتی ہے

تمھاری چاندنی ----

مری آواز سنتے ہو

تو اس کو رائیگاں عمروں کی جانب سے

کسی بے سمت راہی کے

تھکے قدموں سے نسبت دو

یہ دروازہ

ذرا سی دیر کو کھولو

تمھارے لمس سے ، ملبوس سے

دیوار و در سے

اپنی سانسوں کو بھروں گا

اور کسی انجان بستی کو نکل جاؤں گا

اپنے ساتھ وہ پنچھی لیے --------

تمھارے رس بھرے ہونٹوں کی شاخوں سے

جو میرے جھکتے کاندھے کے لیے

بے چین ہے --

میں خاموشی کے رستے پر

اسے آنسو پلاؤں گا

اسے تھپکوں گا

اپنی نیند کی بانہوں میں

اس کی ہم رہی میں

گیت گاؤں گا

کوئی قصہ سناؤں گا

جہاں پر

راستہ گم ہو رہا ہو گا

اسے آزاد کر دوں گا !

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(413) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Mere Awaz Sunte Ho in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.