Moot Mujhe Bulati Hai

موت مجھے بلاتی ہے

لیکن مجھے وہ شام بھولتی ہی نہیں

جب درختوں میں ہوا چل رہی تھی

میں رک گیا تھا .. ایک منظر کے سامنے

گزر جانے کے لیے

اپنی مٹی اور بادلوں کے درمیان

وقت کے بہاؤ کی عین وسط سے

نکل جانے کے لیے

آہستہ آہستہ قدم رکھتے ہوئے

تم میرے دل سے گزرے تھے

یا شاید میں تمھارے دل سے ..

اور چاندنی ، ہماری انگلیوں سے الجھ رہی تھی

زمین پر ایسی شام

شاید ہی کہیں اتری ہو

کیفے کی باڑھ سے

دنیا ہمیں دیکھتی تھی

پاس بلاتی تھی

اور ہم

لوٹ گئے تھے .. اپنے اپنے جہنم کو

اذیت اور انکار کی ہر رات

اس شام کی پناہ میں ہے

وقت کم ہے یا زیادہ

کچھ پتا نہیں چلتا

میں ایک خواب سے دوسرے خواب میں

اس شام سے گزر کر جانا چاہتا ہوں

تم کہاں ہو

موت مجھے بلاتی ہے

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(371) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Moot Mujhe Bulati Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.