Hamesha Dil Main Rehta Hai Kabhi Goya Nahi Jata

جب تک کھلی نہیں تھی اسرار لگ رہی تھی

جب تک کھلی نہیں تھی اسرار لگ رہی تھی

یہ زندگی مجھے بھی دشوار لگ رہی تھی

مجھ پر جھکی ہوئی تھی پھولوں کی ایک ڈالی

لیکن وہ میرے سر پر تلوار لگ رہی تھی

چھوتے ہی جانے کیسے قدموں میں آ گری وہ

جو فاصلے سے اونچی دیوار لگ رہی تھی

شہروں میں آ کے کیسے آہستہ رو ہوا میں

صحرا میں تیز اپنی رفتار لگ رہی تھی

لہروں کے جاگنے پر کچھ بھی نہ کام آئی

کیا چیز تھی جو مجھ کو پتوار لگ رہی تھی

اب کتنی کار آمد جنگل میں لگ رہی ہے

وہ روشنی جو گھر میں بے کار لگ رہی تھی

ٹوٹا ہوا ہے شاید وہ بھی ہمارے جیسا

آواز اس کی جیسے جھنکار لگ رہی تھی

عالمؔ غزل میں ڈھل کر کیا خوب لگ رہی ہے

جو ٹیس میرے دل کا آزار لگ رہی تھی

عالم خورشید

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(396) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Alam Khurshid, Hamesha Dil Main Rehta Hai Kabhi Goya Nahi Jata in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 71 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Alam Khurshid.