Yeh Hath Apna Mere Hath Main Thama Dijye

یہ ہاتھ اپنا مرے ہاتھ میں تھما دیجے

یہ ہاتھ اپنا مرے ہاتھ میں تھما دیجے

تھکا ہوا ہوں ذرا دل کو حوصلہ دیجے

بس اب ملے ہیں تو کیجے نہ آس پاس کا خوف

جو سنگ راہ ملے پاؤں سے ہٹا دیجے

یہ اور دور ہے اور سب یہاں مجھی سے ہیں

وہ کوہ کن کی حکایات سب بھلا دیجے

نہیں ہے آپ کو فرصت اگر توجہ کی

تو میں بھی لوٹتا ہوں گھر کو آ گیا دیجے

مرا وجود بھی ہے آپ کی جبین کا داغ

اسے بھی حرف غلط کی طرح مٹا دیجے

کل آپ نے جو چھڑایا تو چھٹ سکے گا نہ ہاتھ

جو الجھنیں ہیں مجھے آج ہی بتا دیجے

یہ کھیل کھیلا ہے جب پیار کا تو پھر اے دل

اب اپنے آپ کو بھی داؤ پر لگا دیجے

تمام عمر بھٹکتی رہی نظر کہ کہیں

ملے کوئی جسے نذرانہ وفا دیجے

مری تو جنبش لب بھی ہے ناخوشی کا سبب

اب آئی ہے کوئی طرز بیاں سکھا دیجے

وفا ہے جرم تو اقرار جرم ہے مجھ کو

یہ میں ہوں یہ مرا دل لیجئے سزا دیجے

وہ سہمے سہمے جدائی کے مضطرب لمحے

مری نگاہ میں اک بار پھر بسا دیجے

گیا نہیں ہے ابھی دور آپ کا انجمؔ

جو دل اداس ہو پھر سے اسے صدا دیجے

انوار انجم

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(409) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Anwar Anjum, Yeh Hath Apna Mere Hath Main Thama Dijye in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 26 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Anwar Anjum.