Nazar K Zaagh Armanoon K Karmik Mar Chuke Hoon Ge

نظر کے زاغ ارمانوں کے کرمک مر چکے ہوں گے

نظر کے زاغ ارمانوں کے کرمک مر چکے ہوں گے

یہ جتنے روگ بھی ہیں مجھ کو لاحق مر چکے ہوں گے

یہ ہم جو خود سے لڑنے کے لیے خندق بناتے ہیں

سمجھتے ہیں کسی دن زیرِخندق مر چکے ہوں گے

چٹائی اور ہکّے روئیں گے تنہائی کو اپنی

لگائے بیٹھے ہیں جو لوگ بیٹھک مر چکے ہوں گے

وہ آئے گا کہ جس کا ذکر آیا ہے کہانی میں

وہ آئے گا مگر ہم لوگ تب تک مر چکے ہوں گے

یہ میلے اور بزم آرائیاں باقی رہیں شاید

پہ یہ جو قہقہے ہیں وجہِ رونق مر چکے ہوں گے

ہر اک سو خواب لے لو، خواب لے لو کی صدا ہو گی

مگر بازار بھر کے سارے گاہک مر چکے ہوں گے

یہ آنکھیں خشک ہوجائیں گی جو آنسو بہاتی ہیں

یہ دل جو سینوں میں کرتے ہیں دھک دھک مر چکے ہوں گے

ہتھیلی پر حنا زندہ رہے گی اور مہکے گی

حویلی، روشنی، شہنائی،ڈھولک مر چکے ہوں گے

سیہ آہن کے دروازوں کو وا ہونا نہ آئے گا

سنہرے ہاتھ جو دیتے ہیں دستک مر چکے ہوں گے

اسی دن آخری سورج لکھے گا شام زندہ باد

وہ دن جس دن درندے اور دیمک مر چکے ہوں گے

مگر افسوس، صد افسوس، صد ہا اور صد ہا ہا

کنواں چلتا رہے گا اور مینڈک مر چکے ہوں گے

دانیال طریر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(441) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Daniyal Tareer, Nazar K Zaagh Armanoon K Karmik Mar Chuke Hoon Ge in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 56 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Daniyal Tareer.