Porana Zakhm Jisay Tajruba Ziyada Hae

پرانا زخم جسے تجربہ زیادہ ہے

پرانا زخم جسے تجربہ زیادہ ہے

زیادہ دکھتا نہیں سوچتا زیادہ ہے

ذرا زیادہ محبت بھی چاہیے ہم کو

ہمارا دل بھی تو ٹوٹا ہوا زیادہ ہے

ترا وصال ضرورت ہے جسم و جاں کی تو ہو

ترا خیال مرے کام کا زیادہ ہے

جو مسجدوں کی طرف اس قدر بلاتے ہیں

تو کیا یہ ہے کہ کہیں کچھ خدا زیادہ ہے

میں بار بار جو اس کی طلب میں جاتا ہوں

خیال خام میں شاید مزا زیادہ ہے

امیر شہر سے اب کون باز پرس کرے

کہ اس کے پاس بہت سی قبا زیادہ ہے

یہ آئنہ مرا آئینۂ محبت ہے

پر اس میں عکس کسی اور کا زیادہ ہے

بدن کے باغ میں سب رونقیں ہیں دل کے قریب

اسی نواح میں باد صبا زیادہ ہے

ہجوم شدت احساسؔ باڑھ پر ہے آج

کرم بھی آج غزل کا ذرا زیادہ ہے

فرحت احساس

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1205) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Farhat Ehsas, Porana Zakhm Jisay Tajruba Ziyada Hae in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 113 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Farhat Ehsas.