A Gaya Ho Nah Koi Bhais Badal Kar Dekho

آ گیا ہو نہ کوئی بھیس بدل کر دیکھو

آ گیا ہو نہ کوئی بھیس بدل کر دیکھو

دو قدم سائے کے ہم راہ بھی چل کر دیکھو

میہماں روشنیو سخت اندھیرا ہے یہاں

پاؤں رکھنا مری چوکھٹ پہ سنبھل کر دیکھو

کبھی ایسا نہ ہو پہچان نہ پاؤ خود کو

بار بار اپنے ارادے نہ بدل کر دیکھو

ابر آئے گا تبھی پیاس بجھانے پہلے

ریگ صحرا کی طرح دھوپ میں جل کر دیکھو

دن کی دیکھی ہوئی ہر شکل بدل جائے گی

رات کے ساتھ ذرا گھر سے نکل کر دیکھو

موم ہو جائے گا پتھر سا یہ دل سینے میں

لمحہ بھر کو کسی پہلو میں پگھل کر دیکھو

عمر رفتہ کو کہاں ڈھونڈھ رہے ہو مخمورؔ

اس کے کوچے میں ملے گی وہیں چل کر دیکھو

غلام حسین ساجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(541) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ghulam Hussain Sajid, A Gaya Ho Nah Koi Bhais Badal Kar Dekho in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 88 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ghulam Hussain Sajid.