Ufaq Se Aag Utar Aayi Hai Marey Ghar Bhi

افق سے آگ اتر آئی ہے مرے گھر بھی

افق سے آگ اتر آئی ہے مرے گھر بھی

شکست ہوتے ہیں کیا شہر اپنے اندر بھی

یہ آب و تاب اسی مرحلے پہ ختم نہیں

کوئی چراغ ہے اس آئنے سے باہر بھی

خمیر جس نے اٹھایا ہے خاک سے میرا

اسی نے خواب سے کھینچا ہے میرا جوہر بھی

میں ڈھونڈ لوں گا کوئی راستہ پلٹنے کا

جو بند ہوگا کبھی مجھ پہ آپ کا در بھی

کسی کے عکس منور کی چھوٹ سے ہے دنگ

تو میرے دم سے ہے یہ آئینہ مکدر بھی

یہ سیل شب ہی نہیں میرے واسطے جاری

رواں ہے میرے لیے صبح کا سمندر بھی

دہکنے والے فقط پھول ہی نہ تھے ساجدؔ

کھلے ہوئے تھے انہی کیاریوں میں اخگر بھی

غلام حسین ساجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(395) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ghulam Hussain Sajid, Ufaq Se Aag Utar Aayi Hai Marey Ghar Bhi in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 88 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ghulam Hussain Sajid.