Senay Main Kasak Ban Ke Utrney Ke Liye Hai

سینے میں کسک بن کے اترنے کے لیے ہے

سینے میں کسک بن کے اترنے کے لیے ہے

ہر لمحۂ حاصل کہ گزرنے کے لیے ہے

سنورے گا نہ اس شام سر آئینہ کوئی

یہ شام تو تیرے ہی سنورنے کے لیے ہے

ناموس گلستاں کا تقاضا سہی کچھ بھی

خوشبو تو مگر قید نہ کرنے کے لیے ہے

تم ریت میں چاہو تو اسے کھے نہ سکوگے

کشتی جو سمندر میں اترنے کے لیے ہے

کچھ اور نہیں دل کی تمناؤں کا حاصل

اس شاخ کا ہر پھول بکھرنے کے لیے ہے

سوئی ہوئی ہر ٹیس کبھی جاگ اٹھے گی

جو زخم ہے اس دل میں نہ بھرنے کے لیے ہے

تصویر غم دل نہ کبھی ماند پڑے گی

مٹتا ہوا ہر نقش ابھرنے کے لیے ہے

یہ قافلۂ عمر رواں راہ طلب پر

دو چار قدم چل کے ٹھہرنے کے لیے ہے

مخمورؔ یہ دنیا وہ رسد گاہ اجل ہے

زندہ ہے یہاں کوئی تو مرنے کے لیے ہے

مخمور سعیدی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(715) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Makhmoor Saeedi, Senay Main Kasak Ban Ke Utrney Ke Liye Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 43 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.8 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Makhmoor Saeedi.