Main Kiya Chahta HooN

میں کیا چاہتا ہوں

میں کیا چاہتا ہوں میں کیا چاہتا ہوں

میں دنیا کا عالم نیا چاہتا ہوں

وہ فرقے جو رہتے ہیں ہندوستاں میں

انہیں ایک دل دیکھنا چاہتا ہوں

ہو مقصد یہاں جن کا ایذا رسانی

میں ان طاقتوں کی فنا چاہتا ہوں

عداوت کا نفرت کا انجام بد ہے

میں اس بات کو سوچنا چاہتا ہوں

غریبی سے اب جان پر آ بنی ہے

میں اس حال کو روکنا چاہتا ہوں

وطن کی ترقی کا ہے راز اس میں

میں آزاد آب و ہوا چاہتا ہوں

بنے دیس پھر اپنا سونے کی چڑیا

کچھ ایسی نئی کیمیا چاہتا ہوں

جو کہتے ہیں یہ کیمیا حریت ہے

میں تائید ان کی کیا چاہتا ہوں

ملے گی نہ یہ کیمیا بے کیے کچھ

یہ اک بات سیدھی کہا چاہتا ہوں

نئی بات ہے مجھ کو نیرؔ گوارہ

ہر انداز اپنا نیا چاہتا ہوں

محمد شفیع الدین نیر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(391) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Mohammad Shafi Uddin Nayyar, Main Kiya Chahta HooN in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Social, Hope Urdu Poetry. Also there are 31 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Love, Social, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Mohammad Shafi Uddin Nayyar.