Rail Ki Patri Per Bethi Sochti HooN

ریل کی پٹری پر بیٹھی سوچتی ہوں

ریل کی پٹری پر بیٹھی سوچتی ہوں

اُن کی ذہنی کیفیت کیا ہوتی ہو گی

جو یہاں آ کے قضا سے گلے ملتے ہیں۔

خوف آتا ہے مجھے اس ریل کی پٹری سے

اسے جب بھی عبور کرنا ہو

جانے کیوں دل کی دھڑکن

تیز سے تیز تریں ہو جاتی ہے

سارے کلمات مرے

حرزِ جاں اور وردِ زباں ہونے لگتے ہیں۔

ریل کی پٹری پر بیٹھی

اپنے ہاتھوں کی لکیریں پھر سے پڑھتی ہوں

موت بہت واضح ہے

اور زندگی ---

زندگی کی لکیر مدھم، اُلجھی، ٹیڑھی میڑھی

پٹری سے دائیں جانب قبرستان پہ نظریں جم جاتی ہیں

قبرستان --- عجب دہشت طاری کرتا ہے

زندہ دِلوں کی تو خوفِ خدا سے سانس ہی رُک جاتی ہے۔

مغرب کے اس کونے میں قبرستان کی آرائش

دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے

اس کا حصّہ بننے کی خاطر

بہ خوشی اس میں مقیم ہونے کو دل کرتا ہے۔

اس میں جب قیام کرنا ہی ٹھہرا

تو انتظار کی اذیّت کیوں؟

ویسے بھی --- انتظار ختم ہی کب ہوتا ہے

موت تمہارے جیسی بے ایمان بھی تو ہو سکتی ہے۔

اچھا، ریل آ رہی ہے

خوف آتا ہے مجھے اس ریل کی پٹری سے،

وقت بہت کم ہے، تم میرے پاس ہی رہنا

میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں رکھنا،

روح کی روشنی مجھے تمہاری محبت ہے

اور تمہی میرا اعتبار ہو، تم جانتے ہو نا،

ہاں مجھے تم سے محبت ہے

میرے دل میں تمہاری آواز کبھی مدھم نہیں ہوئی۔

کیسی سحر انگیز محبت تھی

جو میرا حصار توڑ کے مجھ پر حاوی ہُوئی

اور مجھے خاکستر کر ڈالا۔

ہم اک دوجے کو قبول ہیں

بس کچھ انتظار ---

میرے اس انتظار کو عمرِ خضر لگی

اور بے ایمانی جیت گئی

یہ محبت کوئی ڈائن تھی شاید

میرا سارا لہو پی گئی۔

میں اپنے اعتبار کا خون تمہیں معاف کرتی ہوں

تم میرے بھروسے کے جنازے کو کندھا دینے آنا۔

خوف آتا ہے مجھے اس ریل کی پٹری سے

تم اپنے منظر سے مجھے باہر مت کرنا

رُکو، سُنو --- ہاتھ چُھڑا کر مت جاؤ ---

اس ریل کی پٹری پر مجھے

تنہا چھوڑ کے جا رہے ہو؟

یعنی میرا مرنا بھی تمہارے لیے بے معنی ٹھہرا؟

اچھا ٹھیک ہے، جو تمہاری مرضی۔

اپنی آںکھوں پر سیاہ پلکوں کا پردہ برابر کرتی ہوں

کافور کی باس مری ہڈیوں میں جیسے اُتر آتی ہے۔

یا اللہ، تُو مُنصف ہے، مجھے معاف کر دینا

میرے دکھوں کا محرمِ راز فقط تُو ہے،

میں اپنے قاتل کو معاف کرتی ہوں

اُس آنکھوں والے کو---

جس نے مجھے اندھیرے بخشے ---

اُس سوچنے والے کو ---

جس نے اپنی بے حسی مجھ میں پھونک دی ---

لیکن تُو مُنصف ہے۔

میں تیری امانت میں خیانت کرنے والی ہوں

اس زندگی سے مُکرنے والی ہوں

مجھے یہ بتا دیا گیا ہے --- منزل آ گئی

تُو معاف کر دینا مجھے

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

ریل مرے سر پر آ پہنچی ہے

اب، اب، ٹک، ٹک، اب، ٹک ٹک ٹک ---

اُففففف یہ کس کی آواز ہے، میری تو نہیں ہے

یہ کس کی چیخ ہے، میں کس کو سُن رہی ہوں

میری آنکھوں کی پُتلیاں حرکت کرتی ہیں

دھندلی روشنی ان میں بھر جاتی ہے۔

حد ہے ویسے بد قسمتی کی بھی

یہ کیا؟ ریل بھی عین وقت پر تمہارے جیسی

بے ایمان نکلی اور پٹری ہی بدل لی،

میرا رب بے شک مُنصف ہے۔

ایک سرخ و سرد لکیر ہے --- میرے سامنے

دو بے جان آنکھیں ہیں۔

ہچکیاں مری آںکھوں پر

سیاہ پلکوں کا پردہ برابر کرتی ہیں

ریل کی آواز دور بہت دور کو جاتی سنائی دیتی ہے

میری ساری حِسیں منجمند ہو جاتی ہیں

ناہید ورک

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2063) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Naheed Virk, Rail Ki Patri Per Bethi Sochti HooN in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Hope Urdu Poetry. Also there are 74 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Naheed Virk.