Gulaab Haath Main Ho Ankh Main Sitara Ho

گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو

گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو

کوئی وجود محبت کا استعارہ ہو

میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوں

جزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو

کبھی کبھار اسے دیکھ لیں کہیں مل لیں

یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو

قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے

محبتوں میں جو احسان ہو تمہارا ہو

یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا

کہیں ہوا کا ہی اس نے نہ روپ دھارا ہو

افق تو کیا ہے در کہکشاں بھی چھو آئیں

مسافروں کو اگر چاند کا اشارا ہو

میں اپنے حصے کے سکھ جس کے نام کر ڈالوں

کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو

اگر وجود میں آہنگ ہے تو وصل بھی ہے

وہ چاہے نظم کا ٹکڑا کہ نثر پارہ ہو

پروین شاکر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1094) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Parveen Shakir, Gulaab Haath Main Ho Ankh Main Sitara Ho in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 110 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Parveen Shakir.