Bujha Diya Giya

بُجھا دیا گیا

بے وجہ بزمِ ناز سے ھم کو اُٹھا دیا گیا

طُوفان سا گُمان کا دل میں جگا دیا گیا

نہلا گیا تھا نُور میں یہ شہر پِچھلی رات کو

اِتنے چراغ جل اُٹھے، دونِیم کا دیا گیا

اُس نے خزانہ پا لیا ھم سے بِچھڑ کے بِالیقیں

پلکوں پہ ہار سا کوئی گویا سجا دیا گیا

کچھ بھی ہمارے پاس اب رہنے دیا گیا نہیں

اِک تھا چراغِ آگہی وہ بھی بُجھا دیا گیا

اِک اور شخص چل بسا، اِک اور موت ہو گئی

دِل سے بھی دِل پذِیر اک منظر ہٹا دیا گیا

ہم نے تو عِشق دیو پہ جِیون لُٹا دیا مگر

بدلے میں ہم کو دوستو دیکھو تو کیا دیا گیا

قِسمت کا سب کِیا دھرا اِنسان کا گُمان کیا

اِس کو بنا دیا گیا، اُس کو مٹا دیا گیا

جو کُچھ ہمارے پاس ہے وہ سب عطائے عشق ھے

ہم سے نہ کوئی بھی کبھی ہرگِز صلہ دیا گیا

پِھر اُس کے بعد کی ہمیں کُچھ بھی خبر نہیں رہی

بس ایک جام سا رشیدؔ ھم کو لا دیا گیا

پروفیسر رشید حسرت

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(770) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Professor Rasheed Hasrat, Bujha Diya Giya in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 127 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Professor Rasheed Hasrat.