بھارت میں کسانوں کا خوفناک استحصال

اصلاحات کی آڑ میں مودی سرکار نے زراعت کا ٹھیکہ نیتن یاہو حکومت کو دے دیا

جمعہ جنوری

Baharat Main kissanoon Ka Khofnak Istehsaal
رابعہ عظمت
بھارت میں مودی حکومت کی کسان دشمن زرعی اصلاحات کے خلاف کاشتکار دہلی کی سڑکوں پر دھرنا دیے ہوئے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے احتجاج میں شدت آتی جا رہی ہے۔نئے زرعی قوانین کے اطلاق کے بعد زراعت کے شعبے پر کارپوریٹ کا کنٹرول ہو جائے گا اور کسان اپنی مرضی سے فصل کی قیمت طے کرنے کا سنہرا خواب کل سرمایہ داروں اور کارپوریٹ کی طے کردہ قیمت پر بیچنے کی مجبوری میں بدل دے گا نئے قانون میں اجناس کے لئے حکومت کی مقرر کردہ کم از کم سپورٹ قیمت کے نئے قوانین میں شامل نہ ہونے سے کسان مزید غربت میں ڈوبتے چلے جائیں گے۔

دوسری جانب فصل بیچنے کے لئے جس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا بلند و بانگ دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ سٹہ بازی کی ہی دوسری شکل ہے جسے بھارتی حکومت تحفظ فراہم کرکے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کے طور پر دے رہی ہے۔

(جاری ہے)

زرعی شعبے کی اصلاحات کی تباہ کاریاں بھارتی کسان بخوبی دیکھ چکے ہیں جس سے بھارت میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ہر چند کہ حکومت نے 2018ء کے بعد سے کسانوں کی خود سوزی کے الگ سے اعداد و شمار جاری نہیں کئے لیکن قرضوں کی عدم ادائیگی، فصل کی قیمت نہ ملنے،پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ و دیگر وجوہات کی بنا پر بڑی تعداد میں کسان خود کو ہلاک کر رہے ہیں۔


2019ء میں 10281 کسانوں نے اپنی جانیں لیں یعنی بھارت میں ہر مہینے میں تقریباً ایک ہزار کسان خودکشی کرتا ہے ہائیڈرو کاربن اور میتمین گیس کی تلاش کے نام پر زرعی زمینوں کے خوفناک استحصال کی وہ سے جنوبی ہندوستان کسانوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے اور وہ بتدریج اپنی زمینوں سے محروم ہو رہے ہیں۔یہ زرعی اراضی بڑے بڑے سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کو منتقل ہو رہی ہیں ایسے میں نئے زرعی قوانین کے تعلق سے کسانوں کے ان خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس وقت کسانوں کی ایک بڑی تعداد دہلی کی سڑکوں پر اپنے حقوق کے لئے دھرنا دیئے ہوئے ہے اور اس دوران دو درجن سے زائد کسان بھی موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔بھارتی حکومت نے جس عاجلانہ اور غیرجمہوری آمرانہ طریقے سے زرعی قانون کو منظور کروایا وہ بھارتی جمہوریت کا ایک بدنما داغ ہے۔جس عجلت سے جس انداز سے بل منظور ہوا اس سے اس الزام کو تقویت ملتی ہے کہ مودی حکومت نے کارپوریٹ گھرانوں کی خوشنودی کے لئے یہ غیر دانشمندانہ قانون پاس کروایا۔

جس سے یہ کہنا بے جا نہیں کہ مودی سرکاری زراعت کو بھی کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کی تیاری کر چکی ہے۔یہ شبہ اور بھی مستحکم ہو جاتا ہے جب مذکورہ زرعی بل کی منظوری سے قبل اڈانی گروپ نے بڑے بڑے لاکھوں میٹرک ٹن غلہ اسٹور کرنے کی صلاحیت والے گودام تعمیر کرا لیے تھے۔اور امبانی گروپ نے ریٹل چین فیوچر گروپ کو ٹیک اوور کر لیا تھا۔حالانکہ اڈانی گروپ کا کہنا ہے کہ اس کے یہ گودام بہت پہلے تعمیر ہوئے تھے۔

جسے فوڈ کارپوریشن کو کرایہ پر دیا گیا تھا۔
اگر نئے زرعی قوانین کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھارتی زراعت کو کارپوریٹ گھرانوں کے حوالے کرنے کی ویسی ہی سازش ہے جسے دیگر عوامی کمپنیوں سمیت ریلوے کو بھی کارپوریٹ کے حوالہ کیا جا رہا ہے۔جبکہ حکومت کسان تحریک کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اس کا الزام بھی پاکستان پر تھوپا جا رہا ہے اور اسے سکھوں کی خالصتانی تحریک سے جوڑا جا رہا ہے۔

کیونکہ تحریکوں کو بدنام کرنا اور مخالفین کو وطن دشمن بنانا بی جے پی کا آزمودہ نسخہ ہے۔بھارتی متعصب میڈیا حسب معمول کسان تحریک کے خلاف نہایت بے ہودہ و غیر ذمہ دارانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔اسی حکومتی رویے کے پیش نظر بھارتی سپریم کورٹ کو مجبوراً دخل اندازی کرنا پڑی اور ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اگر بھارتی سپریم کورٹ ان قوانین پر حکم امتناعی جاری کر دیتی تو بہتر ہوتا۔

دوسری جانب بھارتی بزنس ٹائیکون انیل امبانی اور گوتم اڈانی کے اسرائیل سے روابط کا انکشاف منظر عام پر آیا ہے۔2016ء میں جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا تو اس وقت انیل امبانی کی ریلائنس ڈیفنس نے اسرائیل رافیل کے ساتھ جوائنٹ وینچر کیا تھا۔
گوتم اڈانی کی ایرو ڈیفنس سسٹمز اینڈ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ نے اسرائیل کے البیت سسٹمز کے ساتھ معاہدہ کر رکھا ہے۔

2014ء میں بحیثیت وزیر اعلیٰ گجرات نریندر مودی نے صوبے کی زراعت کا ٹھیکہ اسرائیل کو دیا تھا۔یہی سبب ہے کہ اسرائیلی سفیر نے بھارتی کسانوں کے خلاف مودی سرکار کی حمایت میں بیان دے کر اس پر مہر ثبت کر دی ہے کہ نریندر مودی سمیت بھارتی کارپوریٹ کے اسرائیل سے باہمی مراسم قائم ہیں۔اسرائیلی سفیر کے کسانوں کے خلاف مودی کی حمایت میں بیان کا مطلب بھارتی اخبار”دی ہندو بزنس لائن“ کی رپورٹ سے با آسانی اخذ کیا جا سکتا ہے۔

بھارت میں امبانی اور اڈانی کی ایگروبیس 53 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔دونوں گروپوں نے 2019ء میں سونی پت اور نویڈا میں اناج ذخیرہ کرنے کے لئے جدید ترین سائیکلو اسٹوریج گودام سینکڑوں ایکڑ اراضی پر تیار کئے تھے۔ایک اور رپورٹ کے مطابق بھارت سے سالانہ 88.36 ملین ڈالر سے زائد کی زرعی اجناس اسرائیل بھیجی جاتی ہے۔کیکڑے اور جھینگے بھی بھیجے جاتے ہیں۔

اس شرح کو بڑھانے کے لئے ہی نیا قانون لاگو کیا گیا ہے جس کو مسترد کرنے کے لئے کسان دہلی کی شاہراؤں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔
# اسرائیل نے بھارت کی زراعت کو بہتر بنانے کے لئے 29 سینئر آف ایکسی لینس کھولے ہوئے ہیں۔جو سارے بھارت پھیلے ہوئے ہیں ۔اسرائیلی فنڈ سے چلنے والے ان مراکز میں 1,47,000 بھارتی کسانوں کو تربیت دی گئی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل میں قابل کاشت رقبہ صرف ایک ہزار ہیکڑ یا 532 مربع میل ہے۔

جو اسرائیل کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔اس لئے وہ بھارت سے اپنی زرعی ضروریات پورا کرنا چاہتا ہے۔کسانوں کی تحریک سے خوفزدہ بھارت کو ہر احتجاج میں ”خالصتان“ ہی دکھائی دیتا ہے۔چونکہ بھارتی کاشتکاروں میں اکثریت ہریانہ و پنجاب سے تعلق رکھتی ہے اس لئے سکھوں کی ایک بڑی تعداد زراعت سے وابستہ ہے اور انہی سکھ قوم کو ”خالصتان“علیحدگی و خود مختاری کا مطالبہ کرنے کی سزا دینے کے لئے سکھ کاشتکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بھارتی حکومت و متعصب ہندو میڈیا سکھ کسانوں کے احتجاج کو علیحدگی پسندی کا رنگ دے کر خود ہی خالصتان تحریک کو مضبوط کر رہی ہے۔دوسری جانب کسان تحریک کو عالمی حمایت و تائید بھی حاصل ہو گئی ہے اور اس کی گونج کینیڈا، یورپ تک سنی گئی ہے۔جبکہ اڈانی گروپ نے اپنے موقف کی حمایت میں اخبارات میں اشتہارات دینا شروع کر دیئے ہیں۔گزشتہ دنوں مودی نے کسان کش اصلاحات کے خلاف سراپا احتجاج کاشتکاروں نے ریلائنس گروپ کی تعمیرات کو آگ لگا کر غم و غصہ کا اظہار کیا۔

عالمی میڈیا کے مطابق مودی کسان دشمن قانون نے عالمی و مقامی سکھوں کو یکجان کر دیا ہے اور سکھ کمیونٹی کسان تحریک کے ذریعے اپنا حق کے حصول کے لئے لڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔گزشتہ دنوں بیرون ملک آسٹریلیا،لندن سمیت دیگر یورپی ممالک میں بھی مظاہرے ہوئے اور مودی سرکار کو سکھوں کو کھلا دشمن قرار دیا۔متعدد امریکی ریاستوں میں بھی سکھوں کے مظاہروں کا انعقاد کیا گیا تھا۔


بی بی سی نے لکھا کہ کسانوں کی اکثریت کا تعلق شمالی ریاستوں پنجاب اور ہریانہ سے ہے اور یہ ملک کی امیر ترین زرعی برادریاں ہیں۔ان کی مہم کو سوشل میڈیا پر بھارت پنجاب اور سمندر پار موجود بھارت کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔پنجاب اور ہریانہ کو بھارت میں خوراک کی فراہمی کے لئے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے اور یہاں کے عمر رسیدہ کسانوں پر سخت سردی میں آنسو گیس اور واٹر کینن کے استعمال کی تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔

اور ان سے بظاہر انھیں زبردست عوامی ہمدردی حاصل ہو رہی ہے۔گزشتہ دہائیوں میں حصول اراضی قانون کے تحت تاحال 6 کروڑ 10 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کو منتقل کی گئی تھی جس سے تقریباً 6 کروڑ افراد بے گھر اور بے زمین ہوئے۔ایک شرمناک حقیقت یہ بھی ہے کہ قانون حصول اراضیات کے تحت حاصل کی جانے والی اراضی اور اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد یا اُنھیں دیئے جانے والے معاوضات کے علاوہ یہ زمینیں کس کو دی گئی تھیں اس کا حکومت کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

اس بات کا اعتراف خود یو پی اے حکومت نے 2012ء میں ایک پارلیمانی کمیٹی کو دیئے گئے جواب میں کیا تھا۔اتفاق سے مذکورہ پارلیمانی کمیٹی کی قیادت بی جے پی رکن پارلیمنٹ سمترا مہاجن کر رہی تھیں جو اس وقت لوک سبھا کی اسپیکر ہیں۔
جب نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے ٹاٹا گروپ کے چیئرمین رتن ٹاٹا کو احمد آبادسے بمشکل 100 کلو میٹر دور سانند میں نانو موٹر پلانٹ کے قیام کیلئے صرف 72 گھنٹوں کے دوران اراضی اور برقی کی فراہمی،ٹیکس سے استثنیٰ اور چارلین پر مبنی مشاہراہ کے ساتھ 9000 کروڑ روپے کے قرض کا انتظام کر دیا تھا ۔

ادانی گروپ کو بھی وہ 15000 ایکڑ اراضی دے چکے ہیں۔ریلائنس کے امبانی برادران نوی ممبئی میں 35000 ایکڑ اراضی حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔زرعی اصلاحات کی آڑ میں ہندوستان میں اراضی کے بھوکے صنعت کاروں کو لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کے حصول کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جو دیہی علاقوں میں صنعتوں کے قیام اور مقامی افراد کو روزگار کا وعدہ کرتے ہوئے کوڑیوں کے مول لی گئی قیمتی اراضیات پر بینکوں سے اربوں روپے کے قرض حاصل کر رہے ہیں۔

تاہم ٹاٹا کے نانو موٹر پلانٹ اور چند دیگر اداروں کے سواء کسی بھی دوسرے SEZ میں بڑی صنعت کا قیام عمل میں نہیں آیا اور نہ ہی مقامی افراد کو روز گار حاصل ہو سکا۔ بعض مقامات پر زمین دینے والوں کے خاندان کے فرد کو سکیورٹی گارڈ یا لیبر کی معمولی ملازمتیں دی گئیں۔
ان حالات کے پیش نظر بھارتی کسان مختلف اندیشوں کے شکار ہو گئے ہیں اس کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی نے حصول اراضی بل کو اپنے وقار کا مسئلہ بنا لیا ہے۔

جس کے نتیجہ میں کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں متحد ہو گئی ہیں اور اہول گاندھی بھی جاگ اُٹھے ہیں اور اس مسئلہ پر دہلی میں منعقدہ کسان ریلی کے علاوہ پارلیمنٹ میں بھی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔مرکزی حکومت نے اس قانون کو صرف اپنے اصل مذموم مقاصد کو چھپانے کیلئے ایک طویل اور مثبت نام دیا ہے۔اس قانون سے بڑے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو زرعی اراضی پر قبضہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

کارپوریٹ کمپنیاں کسانوں کے ساتھ قیمت،معیار اور فصلوں سے متعلق پہلے سے معاہدہ کر یں گے،اس سے کسانوں کے منظم استحصال کا ایک اور راستہ کھل جائے گا۔مودی حکومت نے ان کارپوریٹ کمپنیوں کو سپانسرز کا نام دیا ہے جس سے مارکیٹ میں ان کی اجارہ داری قائم ہو گی وہی پیداوار کا معیار طے کریں گے اور اپنی مرضی سے پیداوار کو مسترد کریں گے۔اس کا کاشت کاروں پر تباہ کن اثر پڑے گا۔

قانون میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی شکایات تحصیلدار یا نامزد ریونیو افسر کے سامنے درج کی جا سکتی ہیں۔کوئی بھی ازالہ 100 دن کے بعد بے کار ہو گی۔کیونکہ کسان کو اپنے کھیت میں واپس جانا پڑے گا۔چنانچہ بھارتی کسانوں نے طے کر رکھا ہے کہ جب تک نئے زرعی قوانین منسوخ نہیں کئے جاتے اور واپس نہیں لئے جاتے تب تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Baharat Main kissanoon Ka Khofnak Istehsaal is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 01 January 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.