حکومت کے خلاف فوری تحریک نہ چلانے پر اتفاق رائے

مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم میاں نوازشریف 25جولائی 2017 کو اقتدار سے نکالے جانے کے بعد پہلی مرتبہ پارلیمنٹ ہائوس آئے جبکہ انھوں نے 22سال بعد قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں قدم رکھا اور کم وبیش دو گھنٹے تک مسلم لیگی رہنمائوں سے مشاورت کرتے رہے۔

جمعرات نومبر

hukoomat ke khilaaf fori tehreek nah chalanay par ittafaq raye
نواز رضا
بالآخر پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی دعوت پر طلب کی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں پارٹی کے قائد میاں محمد نواز شریف کی بجائے پارٹی کے چیئرمین راجہ محمد ظفر الحق کی سربراہی میں پانچ رکنی وفد کی شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وفد میں سردار ایاز صادق ،خواجہ آصف، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق شامل ہوں گے۔

اس بات کا فیصلہ گذشتہ روز پارلیمنٹ ہائوس میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کی پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم میاں نوازشریف 25جولائی 2017 کو اقتدار سے نکالے جانے کے بعد پہلی مرتبہ پارلیمنٹ ہائوس آئے جبکہ انھوں نے 22سال بعد قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں قدم رکھا اور کم وبیش دو گھنٹے تک مسلم لیگی رہنمائوں سے مشاورت کرتے رہے۔

(جاری ہے)

سوا سال بعد جب میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ ہائوس میں قدم رکھا تو مسلم لیگی کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کے استقبال کے لئے پہنچ گئی اور ’ دیکھو دیکھو کون آیا ’شیر آیا، شیر آیا‘‘ کے نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ اسی طرح جب میاں نواز شریف پارلیمنٹ ہائوس کے دوسرے فلور پر واقع اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں پہنچے تو میاں شہباز شریف جو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں‘ کو اپنے استقبال کے لئے منتظر پایا۔

میاں شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا اور ان کو گلے لگا لیا۔ میاں نوازشریف کے احترام میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اپنی نشست پر بیٹھنے کی بجائے میز کے ساتھ پڑی ہوئی کرسی پران کے ساتھ بیٹھے رہے ۔ نوازشریف نے انہیں بتایا کہ وہ لاہور نیب کے دفتر میں ان سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن اجازت نہ ملنے کے باعث وہاں ملاقات نہ ہوسکی ۔ اس موقع پر ایک رکن اسمبلی نے میاں نوازشریف کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ’’ آپ 22سال کے بعد اپوزیشن کے چیمبر میں آئے ہیں ۔

پیپلزپارٹی کے دوسرے دور حکومت 1993سے1997کے دور حکومت میں نوازشریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے طور پر اس چیمبر میں بیٹھا کرتے تھے ‘‘جس پر نوازشریف نے کہا کہ’’ آج آپ نے کچھ پرانی یادیں تازہ کردی ہیں‘‘ ۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے بھی نوازشریف سے ملاقات کی۔ باور کیا جاتا ہے کہ انھوں نے میاں نواز شریف کو پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا پیغام پہنچایا۔

سید خورشید شاہ کچھ دیر تک نوازشریف کے ساتھ رہے اور ان سے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون اور اے پی سی کے انعقاد کے بارے میں بات چیت کی۔ معلوم ہوا ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی میں حکومت کے خلاف فوری طور تحریک نہ چلانے اور عدم اعتماد کی تحریک نہ لانے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے حکومت کو ’’غلطیوں کے لئے کچھ وقت دیا جائے گا پاکستان مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی بجائے اپوزیشن کے کسی اور رکن کو چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی بنانے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین نہ بنایا تو اپوزیشن کی تمام جماعتیں قومی اسمبلی کی کسی کمیٹی کی چیئرمین شپ اور رکنیت قبول نہیں کریں گی۔

اگر حکومت نے ’’من مانی‘‘ کر کے کوئی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی کوشش کی تو اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے اس بات کا بھی فیصلہ کیا کہ میاں نواز شریف جو کہ اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی وفات کے بعد تاحال ’’حالت غم‘‘ سے باہر نہیں آپائے انھیں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے روک دیا ہے لہذاجب وہ مناسب سمجھیں گے ملکی سیاست میں اپنا سرگرم کردار ادا کریں گے ۔

مسلم لیگی قیادت کے درمیان اس بات پر بھی مکمل اتفاق رائے پایا گیا ہے کہ فی الحال میاں نواز شریف کو اپنی تمام تر توجہ عدالتی مقدمات پر مرکوز کرنی چاہیے۔ مسلم لیگی قیادت کے اجلاس میں پارٹی کے چیئرمین راجہ محمد ظفر الحق ،حمزہ شہباز، سردار ایاز صادق ،خواجہ آصف، سینیٹر چوہدری تنویر خان، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، پرویز رشید، عباس آفریدی ،آصف کرمانی، جاوید لطیف اور دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری کا ان کے خلاف چوہدری نثار علی خان نے مقدمات کرانے کا الزام بھی زے بحث آیا جس پر میاں نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے چوہدری نثار علی خان کو آصف علی زرداری کے خلاف کوئی کاروائی کرنے کے لئے کبھی نہیں کہا ۔ اجلاس میں احسن اقبال کی سربراہی میں پارٹی کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے قیام کا فوری طور پر نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

احسن اقبال کو کمیٹی کے دیگر ارکان کو نامزد کرنے کے اختیار دیا گیا ہے ۔ متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان لاہور میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف سے اہم ملاقات کر چکے ہیں اور اس ملاقات میں میاں نواز شریف نے اپنی شرکت کو پارٹی رہنمائوں کی مشاورت سے مشروط کر دیا تھا سو مسلم لیگ ن کی جانب سے باضابطہ طور پر مولانا فضل الرحمان کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ ان کی جماعت اے پی سی میں شرکت تو کرے گی لیکن اس میں نمائندگی راجہ محمد ظفر الحق کریں گے۔

قومی اسمبلی کے چوتھے سیشن کی پہلی نشست میں ایوان میں آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف کی اکٹھی آمد کا منظر دیکھنے میں آیا ،جس سے حکومتی حلقوں میں پریشان کن صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔قومی اسمبلی کا شیڈول سیشن تاحال ’’ہنگامہ خیز ‘‘ نہیں ہوا ۔ اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ تو نہیں کیا گیا لیکن واک آئوٹ کا سلسلہ جاری ہے اور کورم کی نشاندہی کر کے حکومت کو شرمندہ کیا جا رہا ہے۔

پہلے روز قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو پروڈکشن آرڈر پر قومی اسمبلی کے ایوان میں تاخیر سے لانے پر اپوزیشن کے ارکان سے واک آئوٹ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا بہرحال پارلیمنٹ میں مسلم لیگ (ن)کے صدرشہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی لابی میں ہونے والی ملاقات دونوں کے درمیان برف پگھلنے کا باعث بن گئی ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

hukoomat ke khilaaf fori tehreek nah chalanay par ittafaq raye is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 01 November 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.