اپوزیشن کا سیاسی موٴقف

وزیراعظم پر ایوان کے بھرپور اعتماد سے پی ڈی ایم کی سیاسی چالیں ناکام ہو گئیں

ہفتہ مارچ

Opposition Ka Siyasi Muaqaf
راؤ محمد شاہد اقبال
سینیٹ انتخابات میں تاریخی طور پر برتری ہمیشہ سے حکومت کو ہی حاصل ہوتی ہے کیونکہ حکومت کے پاس اراکین اسمبلی کو نوازنے کے بہت سے طریقے دستیاب ہوتے ہیں جیسے سیکرٹ فنڈز سے نقد ادائیگیاں،ترقیاتی فنڈز،ملازمتوں کا کوٹہ،من پسند ٹرانسفر پوسٹنگ وغیرہ جبکہ اپوزیشن کو یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ حکومت اپنی انتظامی قوت کو استعمال کرکے ان کے ووٹ خرید لے گی مگر شومئی قسمت کہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ حکومت کے ووٹ کمال مہارت سے اپوزیشن نے خرید لئے۔

حالیہ سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کی حکومت کو اس لمحے اپنی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا دھچکا لگا جب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے مشترکہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی غیر متوقع طور پر حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو 5 ووٹوں سے شکست دیکر کامیاب ہو گئے حالانکہ ایوان بالا کے انتخابات شروع ہونے سے قبل تک حکمراں اتحاد کے پاس 178 ووٹ کی واضح برتری موجود تھی۔

(جاری ہے)

برسہا برس سے زبان زد عام ہے کہ سندھ کی سیاست میں پیپلز پارٹی کو سیاسی مشکلات کے گرداب میں پھنسائے رکھنے کیلئے ازحد ضروری ہے کہ وفاقی حکومت کے نمائندے یعنی گورنر سندھ کو سائیں پیر پگارا کا دست شفقت لازمی حاصل ہو یہی وجہ ہے کہ وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہو یا پھر تحریک انصاف کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا لیکن جس بات سے سندھ کی سیاست میں واقعی فرق پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا وفاقی حکومت کو سائیں پیر پگارا کی آشیرباد حاصل ہے یا نہیں لہٰذا حالیہ سینیٹ انتخاب میں تحریک انصاف کی حکومت نے سندھ میں اپنی سینیٹ نشستوں کا حصول یقینی بنانے کیلئے پیر پگارا کے بھائی سائیں سید صدر الدین راشدی کو جی ڈی اے کے پلیٹ فارم سے سینیٹر کی نشست پر کھڑا کیا تھا مگر حیران کن طور پر تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان کے تو 2،2 سینیٹرز جی ڈے اے کے ووٹوں سے منتخب ہو گئے مگر جی ڈی اے کا اکلوتا امیدوار اور وہ بھی سائیں سید صدر الدین راشدی تحریک انصاف کے 7 ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے شکست کھا گیا۔


پیپلز پارٹی کا ایک مدت سے سیاسی موٴقف رہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کو اقتدار کے ایوان سے بے دخل کرنے کا سب سے مناسب اور بہتر راستہ تحریک عدم اعتماد کا ہے لیکن جب صدر مملکت پاکستان عارف علوی نے وزیراعظم کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا تو پیپلز پارٹی بشمول اپوزیشن الیون نے تحریک عدم اعتماد کا بائیکاٹ کرکے عمران خان کو ازخود ہی”سیاسی واک اوور“ دے دیا حالانکہ اپوزیشن اتحاد کے پاس 160 یقینی ووٹ قومی اسمبلی میں موجود ہیں اور اگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ”سیاسی مہارت“ کے ساتھ ان ووٹوں کا استعمال کیا جاتا تو عمران خان کو عدم اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں سخت مشکلات بھی پیش آسکتی تھیں مگر پی پی نے تحریک عدم اعتماد کا بائیکاٹ کرکے عمران خان کی حکومت کو گرانے کا سنہرا سیاسی موقع گنوا دیا جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر اسے کامیاب بنائیں گے،لطیفہ تو یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے 368 کے ایوان میں پیپلز پارٹی کی پاس فقط 7 نشستیں ہیں،لگتا ہے کہ کسی نے جادو کروا دیا ہے۔


وزیراعظم عمران خان نے جب سینیٹ الیکشن میں اپنے امیدوار حفیظ شیخ کی عبرتناک شکست کے بعد قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا تو کسی نے اس فیصلہ کو عمران خان کی بلند ہمتی اور اخلاقی جرات سے تعبیر کیا تو کسی نے اس سیاسی چال کو وزیراعظم کی فطری عجلت پسندی کا مظہر سمجھا نیز کسی نے پھبتی کسی کہ”لو جی!اب آپ اپوزیشن کے دام میں وزیراعظم آگیا“جبکہ بعض ٹی وی اینکرز کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ ”تحریک عدم اعتماد ایک جوا ہے جس میں وزیراعظم نے اپنی تمام ”سیاسی کمائی“ داؤ پر لگا دی ہے“مگر سب سے زور دار تبصرہ تو مریم نواز نے کیا تھا کہ” حکمران اتحاد کے اراکین اسمبلی نے اگلے انتخابات میں ن لیگ کے ٹکٹ کے عوض اپنے ووٹوں کا سودا کیا ہے“لیکن 12 بج کر 12 منٹ پر قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن الیون کے ”سیاسی چہرے“ پر بھی پورے 12 ہی بج گئے اور عمران خان 178 ووٹ لے کر دوسری بار وزیراعظم پاکستان منتخب ہو گئے۔

یاد رہے کہ پہلی بار انہیں 176 ووٹوں نے وزارت عظمی کے منصب پر بیٹھایا تھا اور اس بار عمران خان کو 2ووٹ زیادہ مل گئے۔لگتا ہے کہ کسی نے جادو کروا دیا ہے۔
 یادش بخیر!کہ اس کالم کو لکھنے سے قبل ہی پختہ ارادہ کر لیا گیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے سینیٹ انتخابات،اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت، الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آئینی ذمہ داریوں اور نومنتخب سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے،علی گیلانی کی جانب سے جاری کردہ ”ووٹ ضائع کرنے کے سیاسی طریقے“ پر مبنی ویڈیو کے متعلق ایک بھی لفظ نہیں لکھا جائے گا،دراصل کالم نگار کی پختہ نیت تھی کہ آج کے کالم میں وہ اپنے قارئین کو پاکستان میں رائج اعلیٰ سیاسی اقدار،بلند کردار سیاستدانوں کے اوصاف جمیلہ کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف علمی،دلائل و براہین سے ثابت کرنے کی تحریری سعی کرے گا کہ میثاق جمہوریت کے”سیاسی صحیفے“ میں درج آفاقی فرمودات ملک میں جمہوریت کے تسلسل اور استحکام کیلئے کس قدر اہم اور ناگزیر ہیں لیکن جب کالم مکمل ہو گیا تو کالم نگار سوچ رہا ہے کہ یہ میرے قلم نے کیا کچھ اور کیوں کر لکھا دیا ہے؟۔


متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Opposition Ka Siyasi Muaqaf is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 20 March 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.