Live Updates

افغانستان اور بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے، پاکستان کو دوٹوک موقف

جمعرات 2 جولائی 2026 18:15

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جولائی2026ء) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، علاقائی سلامتی، ایران و ترکیہ کے ساتھ اعلیٰ سطح روابط، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور سندھ طاس معاہدے سمیت متعدد اہم امور پر پیش رفت جاری ہے۔ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ افغانستان اور بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

بھارتی آبی جارحیت نا قابل برداشت ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہاوزیراعظم شہباز شریف آج سے ایران اور ترکیہ کا تین روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ وہ ایران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں شرکت کریں گے اور پاکستانی عوام و حکومت کی جانب سے اظہار یکجہتی کریں گے۔

(جاری ہے)

بعد ازاں وزیراعظم ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول جائیں گے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ ترجمان نے کہا پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ وزیراعظم کا دورہ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم ہے۔ امریکہ ایران مذاکرات بارے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایرانی حکام سے مسلسل رابطے برقرار رکھے ہیں۔ دوحہ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

فریقین نے بات چیت جاری رکھنے اور اعلیٰ سطح مواقع کے بعد مزید مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔ ملک میں دہشتگردی کے خلاف جاری کار روائیوں بارے ترجمان نے بتایا پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں کارروائیاں جاری ہیں ۔ ان کارروائیوں کے دوران باجوڑ آپریشن میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوے ہیں ۔

ہلاک دہشت گردوں میں کالعدم ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے عناصر شامل تھے۔ ترجمان نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی پر رد عمل دیتے ہوے ترجمان کا کہنا تھا 29 جون کو افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی میں افغان سرزمین کے استعمال کے شواہد موجود ہیں۔ ایک افغان حملہ آور کو زندہ گرفتار بھی کیا گیا۔ ترجمان نے کہا وزارت داخلہ نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ بغیر دستاویزات رہنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔سندھ طاس معاہدہ اور بھار تی روئیے ہپ پر مؤقف دیتے ہوے ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ چھ دہائی پرانا اور انتہائی اہم ہے جسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس وقت اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سوچ ہے۔ایران کے 22 ملاحوں کی رہائی میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوے ترجمان نے بتایا پاکستان کی کوششوں سے 22 ایرانی ملاحوں کی رہائی ممکن ہوئی، جبکہ اب تک 70 ایرانی شہری پاکستان کی وساطت سے وطن واپس جا چکے ہیں۔بحری جہاز اور یرغمالیوں کے معاملے پر بات کرتے ہوے ترجمان کا کہنا تھا صومالیہ میں یرغمال بحری جہاز کے معاملے پر پاکستان مسلسل رابطے میں ہے اور مالکان پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ یرغمالیوں کی جلد رہائی ممکن ہو سکے۔

انٹرنیشنل اولیو کونسل میں پاکستان کی رکنیت کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا پاکستان نے انٹرنیشنل اولیو کونسل میں مستقل رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کر لی ہے۔ لزبن میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان نے پہلی بار شرکت کی۔زیتون کے شعبے کو برآمدات اور معیشت کا اہم حصہ بنانا ہدف ہے ۔ علاقائی امن اور خارجہ پالیسی پر موقف واضح کرتے ہوے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، تعاون اور استحکام کا خواہاں رہا ہے۔

افغانستان اور بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امن، ترقی اور قومی سلامتی ہے، جبکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی تازہ فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ان افراد کے نام فہرست میں شامل کرتا ہے جن کے بارے میں اخبارات میں خبریں سامنے آتی ہیں یا جن کے اہل خانہ حکومت سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے اندازوں کے مطابق بھارت میں 700 سے زائد پاکستانی قید ہیں، جبکہ بھارت کی فراہم کردہ فہرست میں 400 سے زائد پاکستانی شہریوں کا اندراج ہے۔فاروق آباد میں گردوارہ گرائے جانے کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ حکومت نے واقعے کی مکمل تفصیلات حاصل کر لی ہیں۔

ان کے مطابق گردوارہ انتہائی خستہ حال تھا، وہاں سکھ آبادی موجود نہیں تھی اور نہ ہی وہ عبادت کے لیے استعمال ہو رہا تھا، جبکہ اس کی مخدوش حالت اردگرد کے مکانات کے لیے خطرہ بن چکی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی اجازت کے بغیر ایک کرایہ دار نے عمارت منہدم کی، جس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے بے دخل کر دیا گیا ہے اور عمارت کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کو اقلیتوں کے حقوق پر لیکچر دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ خود بھارت میں مساجد شہید کی جاتی ہیں اور اقلیتیں مظالم کا سامنا کر رہی ہیں۔ترجمان نے آصف مرچنٹ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس معاملے پر ان کے پاس فی الحال کوئی نئی معلومات یا پیشرفت موجود نہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ٹرانس افغان ریلوے، کاسا-1000 اور تاپی (ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت) گیس پائپ لائن منصوبوں کے مستقبل سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی بنیادی تشویش صرف یہ ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے تو علاقائی روابط اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سخت بیانات کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ ان بیانات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں یہ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوتے ہیں تو یہ خوش آئند پیش رفت ہوگی، تاہم فی الحال اس حوالے سے کوئی معلومات یا تصدیق موجود نہیں۔

ترجمان نے مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما یاسین ملک کے مقدمے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ٹرائل جعلی اور غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یاسین ملک کو جلد آزادی ملے گی۔ آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ معاملے پر انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنا مؤقف پہلے ہی واضح کر چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک آئینی نوعیت کا مسئلہ ہے، جس کا حل آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے، لہٰذا اسے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں جاری حقِ خودارادیت کی تحریک کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔ انہوں نے اس معاملے پر بھارت کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات