مصر،چرچ کے باہراسلام پسندوں اور پولیس میں جھڑپ

جمعرات جنوری 04:16

قاہرہ(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔2جنوری۔2014ء)مصر کے اسلام پسندوں اور پولیس کے درمیان گزشتہ روز قاہرہ میں ایک چرچ کے باہر جھڑپ ہوئی،یہ بات سیکورٹی حکام نے کہی،جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب عیسائی نئے سال کے موقع پر عبادت میں مصروف تھے۔اخوان المسلمون کے اسلام پسندوں نے مارچ کا انعقاد کیا تھا اور اس وقت چرچ کے باہر کھڑے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کی جھڑپ ہوگئی۔

(جاری ہے)

اس تحریک جس کے سربراہ سابق صدر محمد مرسی تھے کو گزشتہ ہفتے دہشتگرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور جولائی میں مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے ان اسلام پسندوں کیخلاف کریک ڈاؤن کاسلسلہ جاری ہے۔یہ اسلام پسند عیسائیوں پر الزام عائد کررہے ہیں کہ انہوں نے مرسی کو ہٹانے کیلئے3جولائی کو فوج کی معاونت کی تھی،اس کے بعد سے اسلام پسندوں کے وسیع پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔پولیس نے گزشتہ روز کسی بھی ممکنہ حملے کے پیش نظر چرچوں کے گرد سیکورٹی کو بڑھا دیا ہے۔2011ء کے نئے سال کے موقع پر ایک چرچ کے باہر قطبی عیسائیوں کے زائرین پر ایک خودکش بمبار نے حملہ کیا تھا،جس میں 20افراد مارے گئے تھے،جس میں اکثریت قطبی عیسائیوں کی تھی۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments