Dil Doobnay Laga Hai Tawanai Chahiye

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے

کچھ وار مجھ کو زہر شناسائی چاہیئے

کل تک تھے مطمئن کہ مسافر ہیں رات کے

اب روشنی ملی ہے تو بینائی چاہے

توفیق ہے تو وسعت صحرا بھی دیکھ لیں

یہ کیا کہ اپنے گھر کی ہی انگنائی چاہیئے

ارمان تھا تمہیں کو کہ سب ساتھ میں رہیں

اب تم ہی کہہ رہے ہو کہ تنہائی چاہیئے

ہلکی سی اس جماہی سے میں مطمئن نہیں

بند قبا کا خوف کیا انگڑائی چاہئے

جو لوگ آئنہ سے بہت دور دور تھے

ان کو بھی آج بزم خود آرائی چاہیئے

شائستگان شہر میں مت کیجیے شمار

مردود خلق ہوں مجھے رسوائی چاہیئے

آشفتہ چنگیزی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(441) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ashufta Changezi, Dil Doobnay Laga Hai Tawanai Chahiye in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 76 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ashufta Changezi.