مشہور شاعر فصیح اکمل کی غزل شاعری ۔ فصیح اکمل کی غزلیں

یہ وہ سفر ہے جہاں خوں بہا ضروری ہے

فصیح اکمل

مضطرب دل کی کہانی اور ہے

فصیح اکمل

مدت سے وہ خوشبوئے حنا ہی نہیں آئی

فصیح اکمل

کسی کے سامنے اس طرح سرخ رو ہوگی

فصیح اکمل

کچھ نیا کرنے کی خواہش میں پرانے ہو گئے

فصیح اکمل

کتابوں سے نہ دانش کی فراوانی سے آیا ہے

فصیح اکمل

غبار تنگ ذہنی صورت خنجر نکلتا ہے

فصیح اکمل

دے گیا لکھ کر وہ بس اتنا جدا ہوتے ہوئے

فصیح اکمل

جو تو نہیں ہے تو لگتا ہے اب کہ تو کیا ہے

فصیح اکمل

منور جسم و جاں ہونے لگے ہیں

فصیح اکمل

لٹکائی دیوار پہ کس نے حاتم کی تصویر

فصیح اکمل

جڑوں سے سوکھتا تنہا شجر ہے

فصیح اکمل

دیکھیے حالات کے جوگی کا کب ٹوٹے شراپ

فصیح اکمل

اس کی دیوار پہ منقوش ہے وہ حرف وفا

فصیح اکمل

چشم حیرت کو تعلق کی فضا تک لے گیا

فصیح اکمل

پیار جادو ہے کسی دل میں اتر جائے گا

فصیح اکمل