To Bhi Chop Hai Main Bhi Chop Hon Yeh Kaisi Tanhai Hai

تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے

تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے

تیرے ساتھ تری یاد آئی کیا تو سچ مچ آئی ہے

شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا

مجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے

اس دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احساس

جب اس کے ملبوس کی خوشبو گھر پہنچانے آئی ہے

حسن سے عرض شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے

ہم نے عرض شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے

ہم کو اور تو کچھ نہیں سوجھا البتہ اس کے دل میں

سوز رقابت پیدا کر کے اس کی نیند اڑائی ہے

ہم دونوں مل کر بھی دلوں کی تنہائی میں بھٹکیں گے

پاگل کچھ تو سوچ یہ تو نے کیسی شکل بنائی ہے

عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے

کیاری میں پانی ٹھہرا ہے دیواروں پر کائی ہے

حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نام

عشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ہرجائی ہے

آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا

جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے

ایک تو اتنا حبس ہے پھر میں سانسیں روکے بیٹھا ہوں

ویرانی نے جھاڑو دے کے گھر میں دھول اڑائی ہے

جون ایلیا

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(10011) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Jaun Elia, To Bhi Chop Hai Main Bhi Chop Hon Yeh Kaisi Tanhai Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 195 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Jaun Elia.