Aaj Veeraniyon Mein Mra Dil Naya Silsila Chahta Hai

آج ویرانیوں میں مرا دل نیا سلسلہ چاہتا ہے

آج ویرانیوں میں مرا دل نیا سلسلہ چاہتا ہے

شام ڈھلنے کو ہے زندگی کی خدا اور کیا چاہتا ہے

دھوپ کی نیتوں میں بھڑکنے لگے نفرتوں کے الاؤ

اے گھٹا اس لیے تجھ کو میرا بدن اوڑھنا چاہتا ہے

نیند کی راحتوں سے نہیں مطمئن سلسلہ دھڑکنوں کا

پھر دل زار رعنائیوں میں گندھا رتجگا چاہتا ہے

تیری نزدیکیوں کو پہن کے میں شہزادہ لگنے لگا ہوں

چھو کے رنگینیاں اب کے دیکھوں تری، جی بڑا چاہتا ہے

پرورش حوصلوں کی تمام عمر میرے لہو نے خموشی سے کی

اب جنوں عکس کو دیکھنے کے لیے آئینہ چاہتا ہے

جو ہتھیلی کی ساری پرانی لکیروں کو تبدیل کر دے

ایسا خوش رنگ ہر آدمی اب یہاں سانحہ چاہتا ہے

تم سمندر کے سہمے ہوئے جوش کو میرا پیغام دینا

موسم حبس میں پھر کوئی آج تازہ ہوا چاہتا ہے

عمر بھر آنسوؤں سے جو دھوتا رہا چہرہ محرومیوں کا

وہ تری رحمتوں سے مرے مولا اب کے جزا چاہتا ہے

ناز تھا جس کو میری رفاقت کے ہر لمحۂ مختصر پر

آج محسوس ایسا ہوا ہے کہ وہ فاصلہ چاہتا ہے

رفیق خیال

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(350) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Rafique Khayal, Aaj Veeraniyon Mein Mra Dil Naya Silsila Chahta Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 41 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Rafique Khayal.