Kahaniyaan Na Khatam HooN Gi Ikhtetamiyoon K Sath

کہانیاں نہ ختم ہوں گی اختتامیوں کے ساتھ

کہانیاں نہ ختم ہوں گی اختتامیوں کے ساتھ

مجھے قبول کر مری تمام خامیوں کے ساتھ

میں اپنے حسن و ناز کے غرور میں بھی جل بجھی

وہ لوٹ لے گیا بزم خوش کلامیوں کے ساتھ

کسی مقام جبر پر شہید ہو گئی ہوں میں

مجھے بھی دفن کیجیے گا سو سلامیوں کے ساتھ

عبور کرنا سہل کب ہے پُل صراط عشق کا

کنارِ زیست ہم کھڑے ہیں ناتمامیوں کے ساتھ

ہم اُن کے اعتماد کے ڈسے ہوئے ہیں لوگ جو

کبھی تھے کوفہ والوں کے کبھی تھے شامیوں کے ساتھ

اسی لیے ہوئے ہو تم قریب سے قریب تر

ہزار خوش مزاحیوں سے خوش کلامیوں کے ساتھ

جہاں جہاں گئی ہوں میں تمھارا ہاتھ تھام کر

ہوا ادھر ادھر گئی سبک خرامیوں کے ساتھ

یہ کیا ہوا کہ اس کے باوجود اپنی ہار دی

کھڑی تھی میں تو سر اُٹھائے اپنے حامیوں کے ساتھ

کوئی بھی گُروہ آج تک ہمیں تو مل نہیں سکا

کہ غم کے باوجود خوش ہوں ناکامیوں کے ساتھ

مری زمیں ترے تئیں یہ فیصلہ درست ہے

ہوا جو حال وہ ہوا بدانتظامیوں کے ساتھ

ہمارا حوصلہ ہے یہ کہ مسکرائے روز و شب

دل و جگر کی اس خلش کے ناتمامیوں کے ساتھ

بس عین وقت چل گئی تھی میر جعفروں کی چال

وگرنہ کون ہارتا ہے اپنے حامیوں کے ساتھ

رخشندہ نوید

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(453) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Rakhshanda Naveed, Kahaniyaan Na Khatam HooN Gi Ikhtetamiyoon K Sath in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 19 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Rakhshanda Naveed.