Darya Kabhi Ek Haal Main Bahta Na Rahay Ga

دریا کبھی اک حال میں بہتا نہ رہے گا

دریا کبھی اک حال میں بہتا نہ رہے گا

رہ جاؤں گا میں اور کوئی مجھ سا نہ رہے گا

آسیب نظر آتے ہیں دن کو بھی یہاں پر

اس شہر میں اب کوئی اکیلا نہ رہے گا

اچھا ہے نہ دیکھیں گے نہ محسوس کریں گے

آنکھیں نہ رہیں گی تو تماشا نہ رہے گا

وہ خاک اڑے گی کہ نہ دیکھی نہ سنی ہو

دیوانہ تو کیا چیز ہے صحرا نہ رہے گا

یہ انجمن آرائی ہے اک رات کی مہمان

تا صبح کوئی دیکھنے والا نہ رہے گا

تو کچھ بھی ہو کب تک تجھے ہم یاد کریں گے

تا حشر تو یہ دل بھی دھڑکتا نہ رہے گا

کیا کیا نظر آتا تھا کہ موجود نہیں ہے

یہ سوچ کے روتا ہوں کہ کیا کیا نہ رہے گا

آخر مرے سینے کے بھی ناسور بھریں گے

یہ باغ سدا رنگ دکھاتا نہ رہے گا

ہوں ذرۂ ناچیز مجھے کل کی نہیں فکر

مشہور جو ہیں نام انہی کا نہ رہے گا

شہزادؔ بہت خوار کیا ہم سخنی نے

کچھ دن در و دیوار سے یارانہ رہے گا

شہزاد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(385) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Shahzad Ahmed, Darya Kabhi Ek Haal Main Bahta Na Rahay Ga in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 101 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Shahzad Ahmed.