Khari Hai Sham Ke Khawab Safar Ruka Howa Hai

کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے

کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے

یقین کیوں نہیں آتا اگر رکا ہوا ہے

گزرنے والے تھے جو بھی گزر گئے لیکن

میان راہ کوئی بے خبر رکا ہوا ہے

برس رہا ہے نہ چھٹتا ہے یہ کئی دن سے

جو ایک ابر مری خاک پر رکا ہوا ہے

رواں بھی سلسلۂ اشک ہے ابھی کچھ کچھ

یہ قافلہ جو کہیں بیشتر رکا ہوا ہے

ابھی نکل نہیں سکتا گھروں سے کوئی یہاں

کہ سیل آب ابھی در بدر رکا ہوا ہے

ہر ایک شے ہے کسی راکھ میں بدلنے کو

کہیں جو خانۂ خس میں شرر رکا ہوا ہے

چلی ہوئی تھی مری بات جتنے زوروں سے

اسی حساب سے اس کا اثر رکا ہوا ہے

پہنچ سکے کسی منزل پہ کیا مسافر دل

کہ چل رہا ہے بظاہر مگر رکا ہوا ہے

یہ حرف و صوت کرشمے ہیں سب اسی کے ظفرؔ

لہو کے ساتھ رگوں میں جو ڈر رکا ہوا ہے

ظفر اقبال

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2138) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Zafar Iqbal, Khari Hai Sham Ke Khawab Safar Ruka Howa Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 105 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.9 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Zafar Iqbal.