Sirf Ankhen Theen Abhi Un Main Isharay Nahi Thay

صرف آنکھیں تھیں ابھی ان میں اشارے نہیں تھے

صرف آنکھیں تھیں ابھی ان میں اشارے نہیں تھے

دل پہ موسم یہ محبت نے اتارے نہیں تھے

جیسی راتوں میں سفر ہم نے کیا تھا آغاز

سر بسر سمتیں ہی سمتیں تھیں ستارے نہیں تھے

اب تو ہر شخص کی خاطر ہوئی مطلوب ہمیں

ہم کسی کے بھی نہیں تھے جو تمہارے نہیں تھے

جب ہمیں کوئی توقع ہی نہیں تھی تم سے

ایسے اس وقت بھی حالات ہمارے نہیں تھے

مہلت عمر میں رہنے دیے اس نے شامل

جو شب و روز کبھی ہم نے گزارے نہیں تھے

جب نظارے تھے تو آنکھوں کو نہیں تھی پروا

اب انہی آنکھوں نے چاہا تو نظارے نہیں تھے

ڈوب ہی جانا مقدر تھا ہمارا کہ وہاں

جس طرف دیکھیے پانی تھا کنارے نہیں تھے

کیوں نہیں عشق بھلا ہر کس و نا کس کا شعار

اس تجارت میں اگر اتنے خسارے نہیں تھے

ٹھیک ہے کوئی مدد کو نہیں پہنچا لیکن

یہ بھی سچ ہے کہ ظفرؔ ہم بھی پکارے نہیں تھے

ظفر اقبال

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(2642) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Zafar Iqbal, Sirf Ankhen Theen Abhi Un Main Isharay Nahi Thay in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad Urdu Poetry. Also there are 105 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Sad poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Zafar Iqbal.