جی ٹی روڈ

جب بھی وطن عزیز میں کسی بھی قسم کی سیاسی ہلچل ہوتی ہے ۔ملک میں کوی تحریک چلتی ہے اس کا محور جی ٹی روڈ ہی ہوتا ہے۔جی ٹی روڈ نے ہر قسم کا ہر سیاسی پارٹی ہر فرد ہر ادارے کو احتجاج کرنے لیے وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا ہے

Rehan muhammad ریحان محمد پیر نومبر

GT Road
جی ٹی روڈ صدیوں پر محیط اپنے گھمبیر ماضی کی وجہ سے اپنے اندر  کیسے کیسے  واقعات اپنے اندر کیسے کیسے راز  تاریخ کے اوراق اپنے سینے میں چھپاے بیٹھی ہے۔زبان کان اور آنکھیں نہ رکھنے کے باوجود اس کی پوشیدہ آنکھوں نے بہت کچھ دیکھا یے چشم دید گواہی دی ہے۔زبان نہ ہوتے ہوے بھی بول کر رات کا فسانہ سنایا ہے۔اسی طرح کان نہ ہوتے ہوے بھی سب کچھ سنا یے اور سنایا ہے۔

جی ٹی روڈ پر سفر کرنے والے بے شمار مسافر داستان کا حصہ بنے یا کوی داستان چھور کر گے۔ان گنت قصوں داستانوں  حقیقتوں کو اپنے اندر سموے  لاکھوں دلوں کو ملانے والی لاکھوں رشتوں کو جورنے والی دو روائیتی ملکوں کو بیک وقت جدا کرنے اور ملانے والی اسی تاریخی سڑک کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔تاریخ ساز سڑک ہے ایک عہد کا نام ہے۔

(جاری ہے)

پورے ملک میں موٹر وے بننے کے باوجود جی ٹی روڈ اپنی پوری آب و تاب اپنی  افادیت کے ساتھ اپنی جداگانہ حثیت برقرار رکھی ہوئی ہے۔

 
جب بھی وطن عزیز میں کسی بھی قسم کی سیاسی ہلچل ہوتی ہے ۔ملک میں کوی تحریک چلتی ہے اس کا محور جی ٹی روڈ ہی ہوتا ہے۔جی ٹی روڈ نے  ہر قسم کا ہر سیاسی پارٹی ہر فرد ہر ادارے کو احتجاج کرنے لیے وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا ہے۔ہزاروں لاکھوں کے مجمے کو اپنے اندر سما لیا۔ہر طرح کے ظلم وستم میں اپنی رفاقت نبھای ہے ۔جی جی ٹی روڈ کے نام کا حصہ ہے لہذا اپنے نام کے حصہ کی لاج رکھتے ہوے ہر ایک کو جی جان سے خوشآمد دید کہا ہے۔


دو نومبر 2007 کو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی  لگا کر چیف جسٹس آف سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری کو بر طرف کر دیا۔سوا سال  بحالی تحریک  وکلا تنظیم اور دیگر سیاسی سماجی جماعتیں نے مل کر چلائیں پر کوئ بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوی۔مارچ 2009 کو وکلا تنظیم نے چوہدری اعتزاز احسن کی قیادت اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کی قیادت میں لاھور تا اسلام آباد با راستہ جی ٹی روڈ سے لانگ مارچ کا اعلان کیا۔

بہت بڑے مجمع کی شکل میں قافلہ روانہ ہوا۔تقریباً اٹھارہ گھنٹے میں فافلہ گوجرانوالہ کے قریب پہنچا تو وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کا اعلان کر دیا۔اور یوں بحالی کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوی۔اس کامیابی میں جہاں بڑی قدآور شخصیات کا کمال تھا وہی پر جی ٹی روڈ  کا  بھی ساتھ تھا اس لیے اس کو بھی کامیابی کا کریڈٹ نہ دینا ناانصافی ہو گی۔


اسی طرح کچھ سالوں بعد جنوری 2013 کو پاکستان عوام تحریک کے قاید علامہ طاہر القادری نے نظام بدلو کا نعرہ لگا کر لآھور سے اسلام آباد جی ٹی روڈ کو اپنا ہمسفر بنایا۔ اسلام آباد پہنچ کر حکومت سے مذاکرات میں اپنی کچھ شرائط منوا کر ادھوری کامیابی کے ساتھ واپسی کی راہ لی۔
2013 میں ملک میں عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن بھاری اکثریت سے کامیاب ہوی اور اپنی حکومت بنای۔

پاکستان تحریک انصاف نے بھی بڑی کامیابی حاصل کی۔ لیکن الیکشن میں دھندلی کا شور مچایا اور چار حلقوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ایک سال اپنے اس مطالبے کے نہ پورا ہونے پر چودہ اگست 2014 کو اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا۔اور بزریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد روانہ ہوے۔گوجرانوالہ میں وہاں کے مقامی لیگی کارکنوں سے تصادم ہوا ۔تقریباً تیس گھنٹے میں تحریک انصاف کا قافلہ اسلام آباد پہنچا۔

واضح رہے کے تحریک انصاف کے ساتھ پاکستان عوامی تحریک نے بھی اہک بار پھر اپنے مطالبات ملکی نظام کی اصلاحات اور پنجاب حکومت اور عوامی تحریک کے درمیان ملکی تاریخ کا سب سے بڑا تصادم ہوا جس کے نتیجے میں عوامی تحریک کے چودہ کارکن قتل ہوے اور سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوے اس  سانحہ کے انصاف کے حصول کے لیے 14 اگست 2014 کو اسلام آباد میں دھرنے اور احتجاج کا اعلان کیا۔

اور  انھوں نے بھی اسلام آباد جانے کے لیے جی ٹی روڈ کا انتخاب کیا۔اسی سی جی ٹی روڈ کی فراخ دلی کا اندازہ لگائیں کہ بیک وقت دو بڑی جماعتوں اور دونوں کے ہزاروں کی تعداد میں کارکن کو اپنے دامن میں جگہ دی۔
ابھی ان دونوں جماعتوں کے دھرنے اور اس کے اثرات عوام کے زہین سے نکلے نہیں تھے کہ 29 جولای 2017  کو سپریم کورٹ نے اثاثوں کی منی ٹریل اور عدم ثبوت کی بنا پر اس وقت کےوزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دیا اور  وزیراعظم کا عہدہ چھورنا پڑا۔

میاں نواز شریف نے احتجاجی تحریک مجھے کیوں نکالا ملک گیر سطح پر چلانے کا آعلان کیا۔اس کا آغاز بھی اسلام آباد سے لاہور بزریعہ جی ٹی روڈ سے کیا۔راستے میں جہلم کے مقام افسوس ناک واقعہ ہوا نواز شریف کی ریلی کو دیکھنے آے ایک بچہ کار حادثہ میں جاں بحق ہوا۔
پوری دنیا میں نومبر  ہے پر ہمارے ملک میں مارچ چل رہا ہے۔2018 کے الیکشن کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی۔

ملک کی تینوں بڑی جماعتوں نے الیکشن نتائج مسترد کیے۔محض سوا سال ہی گزرا ہے اور ساری اپوزیشن مل کر حکومت اور وزیراعظم کے استعفیٰ کے لیے آزادی مارچ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں کر رہی ہے۔اس مارچ کی گذرگاہ کا شرف حسب روایت ایک بار پھر جی ٹی روڈ کو حاصل ہوا ہے۔آزادی مارچ کا قافلہ طویل سفر کے بعد جی ٹی روڈ سے اپنی منزل اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔

اور باقاعدہ احتجاج کا آغاز ہو گیا ہے۔
مسلم لیگ ن ملک میں 30 سال حکمرانی کرنے والی جماعت اور ملک میں بڑی تعداد میں ووٹ بنک ہونے کے باوجود ناقدین کی نظر میں جی ٹی روڈ کی جماعت رہ گی ہے۔الیکشن میں ن لیگ کے جیتنے والے امیدواروں کی اکثریت کا تعلق جی ٹی روڈ پر واقع شہروں سے ہے۔
جہاں جی ٹی روڈ کے سیاسی کردار کا زکر کیا ہے وہی پر روز مرہ کے سماجی 'ناگہانی حادثہ کوی المناک واقع اور مختلف مسائل کے حل کے لیے حکومت وقت کا بروقت انصاف اور  کاروائ نہ کرنے کے نتیجہ میں جی ٹی روڈ کے اطراف کے مقامی رہائشی جی ٹی روڈ کی ٹریفک بند کر کے احتجاج کرتے ہیں۔

مظلوموں کی آواز انکے مسائل اور انصاف کے حصول کے لیے جی ٹی روڈ کا کردار بے مثال  ہے۔
جی ٹی روڈ جغرافیائ لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہے لاہور سے پشاور جائیں راستہ میں وہ سارے نظارے منظر ملیں گے جو قدرت کا شکار ہیں۔سر سبز وکھیت مختلف اجناس کی کاشت کے علاقے۔چٹیل میدان۔ ٹھاٹھے مارتے دریا۔پوٹوہار کا علاقہ۔ سالٹ رینج۔قلعہ روہتاس۔ بلندو بالا آسمان سے باتیں کرتے پہاڑ۔

مختلف بودوباش کے لوگ ملیں گے۔ہنر مند دلیر جفا کش لوگ اپنی مثال آپ ہیں۔تہزیب و تمدن کا گہوارا ہیں۔
فن و ثقافت کی بھی جی ٹی روڈ سے خاصی گہری وابستگی ہے۔لاتعداد فلموں ڈراموں کی شوٹنگ ہو چکی ہے ۔ورلڈ گنز آف بک میں شامل جنگجو اداکار سلطان  راہی کا قتل جی ٹی روڈ پر ہوا جو اس کے سینے پر داغ ہے۔دوسری طرف مشہور گلوکار ابرار الحق کا جی ٹی روڈ پر بلو کی دریافت قوم پر عظیم احسان ہے۔

اب تک ابرار الحق ہی وہ صاحب ہیں جنہوں نے جی ٹی روڈ پر ناصرف بلو کی چال دیکھی ہے بلکہ اس کی چال سے پیدا ہونے والے آفٹر ایفیکٹ بھی دیکھے ہیں۔بلو کی جی ٹی روڈ پر چال دیکھ کر بقول ابرار گاڑیوں کی نہ صرف بریکیں لگیں بلکہ آپس میں تصادم بھی ہوا۔اس ساری خوفناک صورتحال کے باوجود ابرار الحق بلو کی تعریف کرتے نظر آے۔اللّٰہ جانتا ہے ساری عمر جی ٹی روڈ پر سفر کرتے گزری ہے پر آج تک بلو یا اس سے ملتی جلتی مخلوق نہیں دیکھی۔ جی ٹی روڈ پر یہ خوش نصیبی صرف ابرار الحق کے حصے میں آی ہے۔میں نے جب بھی لاہور سے اسلام آباد یا پشاور جانا ہو میرا اولین انتخاب جی ٹی روڈ ہی ہے۔اللّٰہ تعالیٰ پاکستان اور جی ٹی روڈ  کو رہتی دنیا تک قائم دائم رکھے آمین۔ ی ٹی روڈ زندہ باد

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

GT Road is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 04 November 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.