”خالصتان اور کسان تحریک“مودی کے گلے کا پھندا

سکھ کاشتکاروں نے فوجی بیٹوں کو واپس بلانے کی دھمکی دے دی

جمعرات فروری

Khalistan aur kissan tehreek
رابعہ عظمت
بھارتی نام نہاد یوم جمہوریہ پر لال قلعہ پر کسانوں کے دھاوے اور وہاں ترنگا اتار کر سکھ پرچم لہرانے کے بعد مودی سرکار کے ہوش اڑا کر رکھ دئیے ہیں چنانچہ کسان تحریک سے خوفزدہ بی جے پی نے کاشتکاروں کو ڈراتے دھمکاتے ہوئے ان کیخلاف غداری کے مقدمات درج کرنا شروع کر دئیے ہیں،سراپا احتجاج مظاہرین کو جیلوں میں دھکیلا جا رہا ہے،سو سے زائد کسان لاپتہ ہیں،کئی اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔

لاٹھی چارج،شیلنگ،فائرنگ،آنسو گیس سمیت دہلی پولیس کی جانب سے طاقت کے بے جا استعمال کے باوجود کاشتکاروں نے دہلی کا گھیراؤ کر رکھا ہے اور سنگھو بارڈر پر کسان دھرنا دیئے ہوئے ہیں،جبکہ حکومت نے انہیں دارالحکومت میں آنے سے روکنے کیلئے خندقیں کھودی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

اس تحریک نے مودی سرکار کو ہلا کر رکھ دیا ہے،حال میں این آر سی مخالف احتجاج اور اب کسانوں کا ہلہ بھی اسی سمت میں بڑھتا ایک قدم ہے۔

بھارت میں کسانوں کی احتجاجی تحریک مودی پر بھاری پڑ گئی۔اوچھے ہتھکنڈے الٹے پڑنے لگے۔کاشتکاروں نے اپنے فوجی بیٹوں کو واپس بلانے اور دلی احتجاج میں بھیجنے کی دھمکی دے دی۔مودی حکومت نے آزادی اظہار پر قابو کی کوششیں شروع کر دیں۔کسان احتجاج کی رپورٹنگ پر صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کرنا شروع کر دئیے۔بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں مقدمات درج ہوئے۔

ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا،پریس کلب اور دیگر گروپوں نے اقدام کی مذمت کی ہے۔ٹویٹر نے دوہرا معیار اپناتے ہوئے مودی سرکاری پر تنقید کرنے والوں کے اکاؤنٹ بند کر دیئے ۔جس میں احتجاج کرنے والے کسانوں کا آفیشل اکاؤنٹ بھی شامل ہیں۔
ٹویٹر نے وضاحت کی ہے کہ بھارتی وزارت داخلہ کے کہنے پر ایکشن لیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا نے ان کسانوں کو دہشت گرد تک کہہ دیا اور ان کے تار”خالصتان تحریک“ سے جوڑ دیے۔

بھارتی معروف دانشور میلکم ایکس کے مطابق”حکومت کی غلط پالیسیوں پر پردہ ڈالنے میں میڈیا پیش پیش رہتا ہے۔اس کی خامیوں کو چھپانے کے لئے خبر کا رُخ دوسری طرف موڑنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اور جو بھی حکومت کے خلاف یا اس کے کسی فیصلے،غلط پالیسی نیز پارلیمنٹ میں محض تعداد کی بنیاد پر بن رہے نئے نئے قوانین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے،اسے سیدھے ’دہشت گرد‘قرار دے دیا جاتا ہے اور ملک سے غداری کے مقدمات اس کے خلاف دائر کر دیے جاتے ہیں۔

“ کسانوں کے ساتھ بہت ساری خواتین نوجوان اور بزرگ،مختلف طبقات اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والے احتجاجی مقامات پر پورے عزم کے ساتھ موجود ہیں۔مظاہرے میں شریک کسان خاتون کا کہنا ہے کہ”ہم چاہتے ہیں کہ یہ قوانین واپس لے لیے جائیں۔“ہریانہ دہلی سرحد پر واقع سنگھو بارڈر پر احتجاج کر رہی دشو جوت گریوال کہتی ہیں۔”ہم اپنی زمینوں سے پوری طرح جوڑے ہوئے ہیں اور ہم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی ہم سے ہماری زمینیں چھین لے۔


متنازعہ زرعی قوانین کو سب سے پہلے 5 جنون 2020ء کو آرڈیننس کی شکل میں پاس کیاگیا تھا،پھر 14 ستمبر کو پارلیمنٹ میں زرعی بل کے طور پر پیش کیا گیا اور اسی ماہ کی 20 تاریخ کو موجودہ حکومت کے ذریعہ جلد بازی میں قانون میں بدل دیا گیا۔مذکورہ قوانین کسانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہیں کیونکہ یہ قوانین بڑے کارپوریٹ کو کسانوں اور زراعت پر زیادہ اختیار فراہم کرتے ہیں۔

نئے زرعی قوانین سے سب سے زیادہ متاثر خواتین ہونے والی ہیں۔زرعی قوانین کیخلاف کسانوں کی تحریک کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے،تاہم پچھلے دنوں سے حکومت اور پولیس کی طرف سے مسلسل متشدد کارروائی بھی جاری ہے۔کسانوں کے احتجاج کے تین اہم محاذ پر انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے۔دوسری طرف کسان رہنماؤں نے یوم مساوات منایا۔سیاسی جماعتیں بھارتی کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت کی حمایت کر رہی ہیں۔

ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے بھی راکیش ٹکیت کو بتایا کہ ان کی پارٹی کسانوں کے ساتھ ہے۔کسانوں کی تحریک کا سب سے بڑا محاذ،سنگھو بارڈر ہے۔اس تحریک کو مضبوط بنانے کیلئے پنجاب کے کسان اب دیگر ریاستوں کے کسان بھی یہاں جمع ہو رہے ہیں۔
 پٹیالہ،گورداس پور،ہوشیار پور سے بھی 41 کسان تنظیموں کی 72 ٹیمیں ہر گھر سے ایک ممبر بھیجا ہے۔ویب سائٹ ٹویٹر نے کسان رہنماؤں کے اکاؤنٹس جن میں”دی کاروان میگزین“بھی شامل ہے بند کر دئیے ہیں”کسان ایکتا مورچہ“۔

بھوپیندر سنگھ مان سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ کمیٹی کے رکن نے کمیٹی سے خود کو علیحدہ کرتے ہوئے کھلے لفظوں میں یہ کہہ دیا ہے کہ وہ بی جے پی کی بی ٹیم کے رکن نہیں ہیں اور یہ جو تین زرعی قوانین بنائے گئے ہیں ان سے زرعی اصلاحات کی ایک شروعات ہوئی تو ہے لیکن ان قوانین میں خامیاں ہیں۔سرکار الیکشن جیتنے کیلئے،ملک بھر میں پیداوار کی قیمتیں مصنوعی طریقے سے گھٹا کر کسانوں کے حقوق سے کھلواڑ کرتی ہے۔

انہوں نے صاف صاف کہا کہ میں کسانوں کے ساتھ ہوں اور ایک ایسی رپورٹ تیار کرنے کی کوشش کروں گا جو کسانوں کیلئے قابل قبول ہو۔مودی سرکار کی طرف نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہر حال میں ان قوانین کو لاگو کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ساٹھ سے زائد کسان شدید ترین سردی کے سبب موت کی نیند سو چکے ہیں،اور کسان لیڈر بھارتیہ کسان یونین کے قائد راکیش ٹکیت یہ کہہ چکے ہیں کہ کسان جانور کی قربانی دینے کو تیار ہیں،گویا یہ کہ موت کا ڈر بھی کسانوں کو نہیں ہے کہ وہ قدم پیچھے کر لیں۔


اگر سپریم کورٹ کی بات مان کر کسان تحریک ختم کر دیتے تو کیا،اگر کمیٹی قوانین کے حق میں رپورٹ دیتی تو کسان تحریک دوبارہ شروع ہو سکتی تھی؟ممکن ہی نہیں تھا۔شاہین باغ کی مثال سامنے ہے۔سپریم کورٹ نے شاہین باغ کی تحریک پر جو فیصلہ دیا ہے اس کی روشنی میں آئندہ شاہین باغ کی تحریک کا شروع ہونا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل بلکہ مشکل ترین ضرور ہے۔

عدالتیں اب بھروسہ کھو چکی ہیں۔بابری مسجد عدالت کے دم پر مسلمانوں سے چھینی گئی،شریعت میں مداخلت عدالت کے دم پر کی گئی،اور اب سی اے اے کا معاملہ سامنے ہے،عدالت دم سادھے ہوئے ہے،اس قانون کی جائز یا ناجائز آئینی حیثیت کو جانچنے کو آمادہ تک نہیں ہے۔آرٹیکل 370 ہٹا کر ،کشمیر کے خصوصی درجہ کو ختم کرنے کی جو حرکت کی گئی ہے اس پر سپریم کورٹ بات کرنے کو تیار نہیں ہے،تو پھر یہ کسانوں کے معاملہ میں اسے مداخلت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟اس لئے کہ مودی سرکار زرعی قوانین بنا کر پھنس گئی ہے،اڈانی اور امبانی کو،جو ان قوانین سے خوب فائدہ اٹھا سکتے ہیں،وہ ناراض نہیں کر سکتی،لیکن کسانوں کی یہ تحریک اس کے گلے کا پھندا بنتی جا رہی ہے ۔


کسان کی ناراضگی اس کے ووٹ بینک کو کھسکا رہی ہے،اس کی ریاستی حکومتیں بالخصوص ہریانہ کی حکومت خطرے میں آگئی ہے۔مودی کی ایک وزیراعظم کی حیثیت سے ناک داد پر لگ چکی ہے۔قوانین واپس لیے تو ناک کٹ جائے گی۔رابل گاندھی کہہ چکے ہیں کہ سرکار کو یہ قوانین واپس لینا ہی ہوں گے۔اگر سارا ہندوستان بلا تفریق مذہب اور ذات پات ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہو گیا تو کوئی انہیں ہرا نہیں سکتا،مودی اور امیت شاہ بھی نہیں۔

کسانوں کے اتحاد میں بھارتی مسلمانوں کے لئے سبق ہے۔اسی لئے آسانی کے ساتھ عدالت نے بابری مسجد چھین لی۔اب ہوش میں آئیں،کسانوں کے اتحاد سے سبق سیکھیں ورنہ سی اے اے کی لڑائی بھی ہار دیں گے۔حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات کے 11 ادوار ہو چکے ہیں،لیکن اس بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت تینوں متنازع قوانین واپس لے تو ہی احتجاج ختم ہو گا جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قوانین واپس نہیں لے گی البتہ ان میں مذاکرات کے ذریعے ترامیم کر سکتی ہے حکومت نے ان قوانین کو ڈیڑھ سال کے لئے معطل کرنے کی بھی پیش کش کی ہے جسے کسانوں نے مسترد کر دیا ہے۔


 وزیراعظم نریندر مودی نے پہلی بار اس معاملے پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اب بھی بات چیت کیلئے تیار ہے اور وزیر زراعت محض ایک فون کال کی دوری پر ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرے۔بھارت کی سینئر تجزیہ کار رادھیکا راما سیشن کہتی ہیں”یوم جمہوریہ پر جو کچھ ہوا اس کی روشنی میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ داخلی سلامتی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے‘کسانوں کا الزام ہے کہ ان کی پرامن ریلی میں کچھ ایسے عناصر داخل ہو گئے تھے جنہوں نے تشدد کو ہوا دی تاکہ ان کی تحریک کو بدنام کیا جا سکے انہوں نے حکومت اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے لوگ شروع سے ہی یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ کسانوں کے احتجاج کو خالصتانی اور ماؤ نواز عناصر کی حمایت حاصل ہے حالانکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور بغیر ثبوت کے ایسے الزامات عائد نہیں کیے جانے چاہئیں۔

“مقامی جریدے کے ایڈیٹر ہرتوش سنگھ بل نے الزام لگایا کہ یہ حکومت خود داخلی سلامتی کے لئے خطرہ ہے کیونکہ اگر حکومت ملکی مفادات کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دینے لگے تو سیکیورٹی کے مسائل تو پیدا ہو ہی جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ کسانوں کی تحریک سے اندرونی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے کسان تو زرعی قوانین کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور حکومت اور اس کے وزرا خالصتان کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو اس سے ظاہر ہے کہ حکومت خود داخلی سلامتی کیلئے خطرہ پیدا کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ مودی سرکار کو اندازہ نہیں کہ یہ بحران ان کی حکومت کا خاتمہ بھی کر سکتا ہے۔


صحافی و تجزیہ نگار وویک شکلا کہتے ہیں کہ ملک دشمن عناصر ایسی تحریکوں میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں26 جنوری کو ہزاروں ٹریکٹر پرامن انداز میں نکل رہے تھے لیکن کچھ لوگوں نے لال قلعہ پر چڑھائی کر دی اور وہی واقعہ خبر بن گیا انہوں نے کہا کہ پرامن انداز میں نکلنے والے ٹریکٹروں کی ریلی کا ذکر کوئی نہیں کر رہا صرف لال قلعے پر چڑھائی کی بات ہو رہی ہے لہٰذا اس کا خدشہ تو ہے کہ اگر فوری طور پر یہ مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو سلامتی کی صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔

تحریک کے آغاز پر حسب سابق مودی سرکار نے پاکستان اور چین پر اس کا الزام عائد کیا تھا تاہم بھارت کے اپنے ذرائع ابلاغ اسے اندر سے اٹھنے والی تحریک قرار دے رہے ہیں۔یہ کسان لوگ ہیں ان کا باہر سے کیا تعلق حکومت نے غلط قوانین بنائے ہیں جن کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے اپنی غلطیوں کو چھپانے اور تحریک کو بدنام کرنے کے لئے ایسے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

برطانوی پارلیمنٹ میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا اور بعض ارکان نے کسانوں کے احتجاج کی حمایت کی تھی یہ تحریک کسانوں کی ہے جس کیلئے بیرون ممالک مقیم با اثر سکھ رہنماء حکومتوں اور عالمی اداروں کی اس تحریک کے حق میں حمایت حاصل کر رہے ہیں جبکہ بھارتی سرکار اس پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے پچھلے دنوں خالصتان حامی تنظیم”سکھ فار جسٹس“ سے تعلق کے الزام میں متعدد کسانوں رہنماؤں کو نوٹس جاری کیے تھے جن میں ایک پنجابی ایکٹر و گلوکار دیب سدھو بھی شامل ہے۔

26 جنوری کے بعد احتجاج میں نئی شدت پیدا ہوئی ہے ،احتجاجی کیمپوں میں کسانوں کی تعداد ہر دن بڑھتی جا رہی ہے اور کسانوں نے دہلی مارچ کیلئے ملک گیر کال دے دی ہے ایسے میں بی جے پی حکومت کیلئے اپنا وجود قائم رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Khalistan aur kissan tehreek is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 18 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.