مشرق وسطی‘افغانستان امریکہ کو کھاگئے․․․

امریکہ عالمی اقتصادیات کوڈالر سے الگ کرنے کا جلد اعلان کر سکتا ہے جولان کے علاقے پر اسرائیلی سیادت تسلیم کرکے آگ پر تیل ڈالا گیاہے

بدھ اپریل

mashriq wasta Afghanistan America ko kha gay
 محمد انیس الرحمن
مسلمانوں کیخلاف نیوزی لینڈ کے دردناک واقعے کے بعد جس اعلیٰ ترین انسانی اقدار کا مظاہرہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم اور عوام نے کیا ہے موجودہ دور میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔مارنے والے نے پچاس مسلمانوں کو مسجد میں شہید کیا لیکن اسی دوران پانچ ہزار سے زائد کیوی عوام نے ایمان کی دولت کو گلے لگایا ۔

بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات یورپ اور امریکہ تک پہنچے جہاں پر بہت سے عیسائیوں نے ایسی ویب سائٹیں اور ادارے متعارف کرادےئے جہاں پر عوام کوا سلام اور مسلمانوں سے متعلق حقیقی تعارف پیش کیا جانے لگا تاکہ امریکہ اور یورپ کے صہیونی دجالی کا رپوریٹیڈ میڈیا کے اسلام سے خلاف پراپیگنڈے کا رد کیا جاسکے۔
امریکہ اپنی ڈوبتی معیشت کے دوران ایک بڑا جواکھیلنے جارہا ہے یہ جو اسرائیل کی عالمی سیادت اور مقبوضہ بیت المقدس کو دجالی دارالحکومت تسلیم کرنے کا ہے جو وہ پہلے ہی کر چکا ہے حال ہی میں اس نے جولان کے مقبوضہ علاقے کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کرکے اس جلتی ہوئی آگ میں مزید تیل ڈال دیا ہے ۔

(جاری ہے)

یہ ایک ایسی تصویر ہے جس میں رنگ کی بجائے انسانی خون بھرا جائے گاعرب عوام اپنی بے حسی کی بڑی قیمت توادا کریں گے لیکن ان کے لئے ان اقدامات کے بعد خاموش رہنا مشکل ہو جائے گا ۔
پاکستان کے ارباب اختیار کو چاہئے کہ وہ اس تمام صورتحال پر گہری نگاہ رکھیں ۔اس کے بعد ہم امریکہ کی جانب آتے ہیں ۔“وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو“گذشتہ دو برسوں کے دوران یہ نعرہ امریکہ کے ستر سے زائد شہروں میں گونجتا رہا۔

یہ ایک ایسی سوئی ہوئی قوم کا نعرہ تھا جس نے امریکہ کے صہیونی ارباب اختیار کی نیندیں حرام کردی تھیں ۔یہ وہ قوم ہے جو کسی بھی قوم کی تعریف پر پوری نہیں اتر تی یعنی یہ بہت سی قوموں کا ملغوبہ جسے امریکی قوم کا نام دے دیا گیا لہٰذا اس نے ایک صدی تک امریکہ کوٹیکس کی شکل میں اپنا خون پلایا جس کی بنیاد پراس قوم پر مسلط امریکی حکمرانوں نے تمام دنیا کا سکون چھین لیا ۔


بدلے میں اس قوم کو اقتصادی خوشحالی اور دنیا کی بے پناہ لذت آفزہ آسودگی مہیا کی گئی تاکہ یہ آرام سے سوتی رہے اگر جاگے تو صرف امریکہ کے کار پور یٹیڈ میڈیا کی آنکھ سے دنیا کا نظارہ کرے اور ایسا ہی ہوتا رہا تقریباً ایک صدی سے کچھ کم عرصے تک اس قوم نے لمبی تان کر نیند بھری ۔لیکن یہ اس وقت جاگی جب اس کا سب کچھ لٹ گیا۔ کوئی بھی انسان جب حالات کے شدید ترین دباؤ میں آتا ہے تو اپنا ہی پیر ہن چاک کر بیٹھتا ہے یہی حال اب امریکی قوم کا ہے اسی لئے اس نے عالمی معاشی جب وال اسٹریٹ پر ہاتھ ڈالنے کی باتیں شروع کر دی تھیں ۔


امریکی قوم کی اسی نیند نے اس کے صہیونی ارباب اختیار کو دنیا بھر میں مکمل طور پر دجالیت پھیلانے کا بھر پور موقع فراہم کیا۔یہاں خوشحالی اور ٹیکنالوجی کے زعم میں ایسے ایسے انسانیت کش قوانین بنائے گئے جس نے دنیا میں حقیقی حاکم عالی اللہ رب العزت کی حاکمیت کو چیلنج کر دیا ۔غیر فطری قوانین یہاں بنائے گئے ۔عورت کی آزادی کے نام پر مادر بدر آزادی کا رواج یہاں سے شروع ہوا ،عورتوں کی عورتوں سے اور مرد کی مرد سے شادی کو قانونی شکل اسی شیطانی سر زمین پر دی گئی۔


سود جیسی مہلک معاشی بیماری کو قانون کی شکل میں بینکوں کے ذریعے دنیا پر مسلط کیا گیا۔یہ سب اللہ رب العزت سے کھلی بغاوت تھی۔اسلام تو دور کی بات عیسائیت اور یہودیت کے اخلاقی قوانین بھی صرف عبادت گاہوں تک محدود کردےئے گئے اور امریکہ اور یورپ میں ایک ”بے خدائی معاشرہGodless Sociatyکو متعارف کرادیا گیا ۔
جہاں مذہب کی ضرورت پڑی وہاں عیسائیت اور یہودیت کو ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا گیا ۔

آج بھی مغرب میں بے شمار عیسائی اور یہودی اپنے حکمرانوں کی اس لادینیت کے خلاف نفرت انگیز رویہ رکھتے ہیں اور انہیں شیطان کا کھلا آلہ کار سمجھتے ہیں ۔امریکہ میں بہت سے ایسے یہودی بھی ہیں جو اسرائیل کے وجود کو تورات کے احکام کے خلاف سمجھتے ہیں اور اسرائیلی ریاست کو ایک دھیلا چندے میں دینا بھی ان کے نزدیک گناہ ہے۔
اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ امریکہ اور یورپ میں لادینیت کو فروغ دینے میں جس اشرافیہ کا عمل دخل رہا ہے وہ درحقیقت اینگلو مغربی سفید فام تہذیب کے قائل ہیں اور یہی اشرافیہ آج تک ان خطوں پر حکمران ہے ۔

اسی دجالی اشرافیہ کی پھیلائی ہوئی نفرت کے نتیجے میں نیوزی لینڈ جیسے مسلم کش واقعات وجود میں آئے اسی نے دولت اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کیا اور حاکمیت عالی کو آسمان سے اتار کرز مین پر بر جمان کر ادیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شق نمبر 24-25میں اسی زمینی حاکمیت عالی کا تصور دیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کا قانون ”سپریم لاء“ہے
۔


ذرا غور کیجئے اللہ کے قانون کی بجائے سلامتی کونسل کا قانون دنیا بھر کے انسانوں پرمسلط کر دیا گیا ہے ۔
یہ اینگلو مغربی سفید فام اشرافیہ کا ہی فیصلہ تھا کہ امریکہ کی معاشی تباہی کے دوران وائٹ ہاؤس میں کوئی گورا صدر نہ ہو بلکہ اس کی جگہ سیاہ فام اوباماہونا چاہئے اور ایسا ہی ہوا تھا۔ اس مرحلے پر بھی اینگلو سفید فام اشرافیہ اپنے دامن پر کوئی داغ دیکھنے کے لئے تیار نہیں ورنہ اوباما بیچارے کا اس سارے عمل میں بس اتنا سا کردار تھا کہ وہ سفید فام اشرافیہ کا عالمی سطح پر پھیلایا ہوا گند صاف کرنے کی کوشش میں لگا رہا ۔

آپ نے بھی غور کیا ہے ٹارزن کے موضوع پر بننے والی انگریزی فلموں میں ایسے علاقے ”افریقہ“کو د کھایا جاتا تھا جو سیاہ فام آبادی سے گھرا ہوا ہوتا تھا لیکن چونکہ ٹارزن ہیرو ہوتا تھا اس لئے اس کا مفید فام ضروری ہوتا تھا۔۔۔یہ ہے اس اینگلو سفید فام اشرافیہ کا نسلی بنیاد پر فلسفہ۔
امریکہ کی معاشی اور اخلاقی تباہی کا فلسفہ سمجھنا ہے تو ہمیں چند سوالات کے جواب تلاش کرنا ہوں گے ۔

کیا کبھی ہم نے سوچا کہ تاریخ میں آج تک صرف خوشحالی اور طاقتور قومیں ہی کیوں تباہی سے دو چار ہوئیں ؟ان کی جگہ غریب اور مفلس قومیں کیوں تباہی سے بچی رہیں ؟آسان سافلسفہ ہے کہ خوشحالی اور تو نگری انسان کو ناشکری کی حد تک لے جاتی ہے اور جب انسان یا کوئی قوم خوشحالی کے بام عروج پر پہنچتے ہیں تو اس میں رب العزت سے بغاوت کا شیطانی جذبہ سراٹھالیتا ہے یہی وہ پہلوہے جو اس قوم کی تباہی کا بڑا سبب بنتا ہے امریکہ جو کچھ تاریخ میں دیگر ملکوں کے ساتھ کرتا رہا آج خود اس کے ہاں شروع ہو چکا ہے
۔


دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی عوامی انقلاب سر اٹھاتا امریکہ اس کا پشتی بان بن کر نمودار ہوتا اور تمام دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دھوم مچا دیتا لیکن آج خود جب امریکہ میں عوام امریکی معاشی بدحالی کے خلاف سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ان پر مرچوں بھرا پانی برسایا جاتا ہے ۔مسلم ممالک کی توخیر ہے لیکن کم از کم روس اور چین کو امریکی حکومت کے اس عوام کش اقوام کے خلاف آواز بلند کرنا چاہئے تھی
۔


کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ سوویت یونین جس وقت افغانستان میں اپنی تمام تر جنگی قوت کے ساتھ واردہوا تھا تو کیااس نے یہ سوچ کریہ قدم اٹھایا تھا کہ اس جنگ کے خاتمے پر اس کا وجود ہوا میں تحلیل ہو چکا ہو گا یا سوویت یونین نام کی ریاست دنیا کے نقشے سے مٹ چکی ہو گی ؟وہ توا فغانستان اس لئے واردہوا تھا کہ پاکستان کو روندھ کر مشرق وسطیٰ کی تیل کی گذر گاہوں تک پہنچ جائے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔


طاقتور سوویت یونین ہوا میں تحلیل ہو گیا اور افغانستان جیسا پسماندہ ملک آج بھی دنیا کے نقشے پر پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے ۔
امریکہ کی اینگلو سفید فام صہیونی اشرافیہ نے جس وقت نائن الیون کے ڈرامے کے بعد افغانستان پر چڑھائی کی تھی تو ان کا خیال تھا کہ افغانستان کو اڈہ بنا کر پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو قبضے میں لیا جائے گا تاکہ جس وقت مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی عالمی سیادت کے اعلان سے قبل مسجد اقصی کو شہید کرکے اس کی جگہ نام نہاد ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کا وقت آئے تو پاکستان کسی قسم کی مزاحمت کے قابل نہ رہے تو دوسری جانب بھارت کے ساتھ مل کر چین اور پاکستان کے گرد ایک بڑا محاصراتی زون قائم کیا جائے گا۔


جبکہ وسطی ایشیا کی ریاستوں کو نیٹو کے جال میں پھنسا کرروس کو اس کی سرحدوں تک محدود کر دیا جائے گا اور یوں دنیا کے معدنی وسائل کے ساتھ ساتھ اس پر ایک دجالی عالمی نظام کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
پاکستان کی اس وقت کی مشرف انتظامیہ نے اس عالمی صہیونی منصوبے کو پورا کرنے میں امریکہ کو افغانستان کے خلاف فوجی اڈے اور ہر طرح کی مدد فراہم کی یہاں تک کہ پاکستانیوں کو بھی پکڑ پکڑ کر امریکیوں کے ہاتھ فروخت کیا گیا۔


لیکن مشرف کی اس تمام تر وطن فروشی کے باوجود ہوا کیا؟طالبان کی مزاحمت امریکی حملے کے پہلے تین چار برس تک واجبی سی رہی جس نے امریکہ کی صہیونی حکمران اشرافیہ کو اس مغالطے میں مبتلا کر دیا کہ اب اسے عراق پر چڑھائی سے روکنے والا کوئی نہیں یہی وجہ ہے کہ اگلا قدم عراق پر مہلک ہتھیار رکھنے کا الزام عائد کرکے اس پر چڑھائی کردی گئی یہی وہ لمحہ تھا جب قدرت کی حکمت عملی آشکارا ہونا شروع ہوئی اور عراق اورافغانستان میں یکدم مزاحمت تیز ہو گئی ۔


اب یہ ایک ایسی ہڈی تھی جو نہ نگلی جا سکتی تھی اور نہ اگلی جا سکتی تھی ۔یہی وہ لمحہ تھا جو چین اور روس کو اقتصادی بلندی کے بام عروج تک لے گیا اگر امریکہ اور یورپ کی اینگلو سفید فام صہیونی اشرافیہ افغانستان اور پھر عراق میں سرنہ پھوڑتی تو شاہد چین اور روس عسکری اور معاشی ترقی کے اس مقام پر نہ ہوتے جہاں آج ہیں۔
روس اور چین اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ معاشی اور عسکری طاقت کے زعم میں امریکہ ایک مرتبہ پھر ویت نام والی غلطی دہرانے جارہا ہے ۔

وہ اپنی سرحدوں سے پانچ ہزار کلو میٹر دور ایک ایسا عسکری تھیٹر سجا رہا ہے جہاں پر اس کا سب کچھ داؤ پر لگ جائے گا اور ایسا ہی ہوا ۔کسی ایک مرحلے پر بھی رو س اور چین نے امریکہ کی اس پیش قدمی کے راستے میں دیوار کھڑی نہ کی وہ جانتے تھے کہ اسی پیش قدمی میں امریکہ کی عسکری اور اقتصادی تباہی پنہا ہے ۔
اس کے بعد امریکہ نے خطے میں پے درپے کئی جوئے کھیلے لیکن ان کے نتائج آج دنیا کے سامنے ہیں کیونکہ کوئی بھی جواری اپنا سب کچھ ہارنے کے باوجود جوئے کے اڈے سے آسانی کے ساتھ نہیں ٹلتا یہی صورتحال امریکہ کی اب ہے ۔

امریکہ تمام تر معاشی تباہی کے باوجود اب افغانستان میں کم ازکم اپنے جنگی اڈے بر قرار رکھنا چاہتا ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان پر حملہ کرنا اور اسے ایک ناکام ریاست قرار دلوانا امریکہ کے افغانستان پر حملے کے منصوبے سے بھی پہلے کا پلان تھا ۔
مشرف کے بعد زرداری گروپ اور پھر نواز لیگ کا اقتدار میں آنا بھی منصوبے کے تحت تھا کراچی ،سندھ بلوچستان اور وطن عزیز کے دیگر حصوں میں ہونے والی خون ریزی بھی اسی منصوبے کا حصہ رہی ۔

بجلی اور گیس کا بحران اور کمر توڑ مہنگائی اور زرداری ونواز گروپ کے ذریعے پاکستان کو اقتصادی تباہی تک پہنچانا بھی اسی سازش کی کڑیاں ہیں ۔۔۔عجیب سی بات لگتی ہے۔۔۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ 2001ء سے لیکر اب تک جس کسی نے بھی امریکی کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کیا انہیں سودسمیت سب کچھ ادا کرنا پڑا اور ابھی مزید ادا کرنا پڑے گا۔
امریکہ اپنی معاشی بدحالی کو دنیا کے معاشی زوال سے تعبیر کرکے اس کا ایک حل اگلے برس تک پیش کر سکتا ہے یعنی عالمی معیشت کو ڈالر سے الگ کر دیا جائے۔

۔۔یعنی ڈالر کاز وال۔۔۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے
 امریکہ کے مجموعی قرضوں کا تخمینہ سودسمیت تقریباً ستر ہزار ارب ڈالر ہے جس کا 41فیصد صرف فرانس اور چین کو ادا کرنا ہے اور چین اور فرانس امریکہ کو دئیے گئے اپنے قرضے کرنسی کی بجائے سونے کی شکل میں مانگ رہے ہیں لیکن اتنا سونا آئے گا کہاں سے ؟
کیونکہ امریکہ کا سب سے بڑا فراڈ بینک فیڈرل ریز و رتو خالی ہو چکا اور اس صہیونی بینک کے مالکوں نے سونا یورپ منتقل کر دیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ سوئٹزر لینڈ کے بینکوں سے اگر سونا نکال لیا جائے تو ڈالروں کی شکل میں وہ ردی گھر بن جائیں گے ۔

۔۔اس تمام صورتحال میں مسلم دنیا کے کسی ”سکالر“نے اس بات کی جانب توجہ نہیں کی ہے کہ حیرت انگیز طور پر اسرائیل کا چاندی کا سکہ”شیکل“ عالمی اقتصادیات میں قوت کیوں پکڑ تا جارہا ہے ۔۔۔کیوں۔؟

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

mashriq wasta Afghanistan America ko kha gay is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 03 April 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.