Kuch Nahi Hai Kahin

کچھ نہیں ہے کہیں

نہیں ، کچھ نہیں ہے کہیں

کوئی میں ہوں نہ تو

اب نہ آزار ہے ، آرزو بھی نہیں

خاک امروز سے

شہر نو روز تک

بس دھواں ہے دھواں

جس میں آنکھیں سلگتی ہیں ، تکتی نہیں

دھول اڑتی ہے ہر سو

یہاں سے وہاں تک ...

مگر -- کوئی بارش سی تھی

ان دلوں میں کبھی

کوئی مہکار تھی .........

آنکھوں کی تہ میں اترتی ہوئی نیند تھی

اور خواب تمنا کی کروٹ سے

ہلچل تھی ، بستر کی شکنوں میں تھی ---

روشنی تھی کہیں

جس میں رستہ دکھائی بھی دیتا تھا

چلتا بھی تھا

کوئی دالان تھا

پھول مہکے ہوے ، رنگ بہکے ہوے تھے کبھی

مہرباں رخ سے جھڑتے ہوے پھول

قدموں میں گرتے ہوے --

ہر طرف دل میں گرہیں لگاتی

ہوا چل رہی تھی

اب نہ ہاتھوں کی گرمی ، نہ دل کی تپش --

ابر اندیشہ چھایا ہوا ہے

برسنے کو ہے

اور مٹی پکڑتی ہے

پاتال کی سمت کھینچے چلی جا رہی ہے ---

آرزو کے ہر اک لفظ پر

اور موجود و رفتہ کے رخ پہ

غبار نفی بن کے چھاتی چلی جا رہی ہے

سفر کیا ہوا

یہ دماغ اب کسے ؟

اب تو ہم کو پہنچنا ہے اس حد تلک

جس کی حد ہی نہیں

اس مکان ابد تک

جو کس کا نہیں

جو کسی کا نہیں !؟

اور طے یہ ہوا

کچھ نہیں ، کچھ نہیں ہے مرا

میرے اطراف میں

خواب کو دیکھ لیتا ہوں

اب خواب میں....

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(451) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Kuch Nahi Hai Kahin in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.