Raz Mazmar Tha Fanaye Jism O Jaan O Maal Mein

راز مضمر تھا فنائے جسم و جان و مال میں

راز مضمر تھا فنائے جسم و جان و مال میں

زندگی ہم نے تلاشا تیرے خدوخال میں

کُھل رہے ہیں کُن کے کچھ اسرار میرے قلب پر

ربط واضح ہو رہا ہے منفرد اشکال میں

ایک نقطہ پا رہا ہوں ماضی و فردا کے بیچ

آج تھوڑی دیر مجھ کو چھوڑ دو اِس حال میں

ہم تو مستقبل کے امکانات میں مصروف تھے

فلسفی تھے، پھنس گئے ہیں کس طرح احوال میں

تم کہو تم تو ہمارے محرم و غمخوار تھے

کب پھنسا، کیسے پھنسا دل آپ اپنے جال میں

زخم سِل جاتے ہیں، کھُل جاتے ہیں، سِل جاتے ہیں پھر

آپ مِل جاتے ہیں پھر سے سال میں، دو سال میں

اس قدر مایوسیوں کے بعد اک امیدِ نو

ہم برہنہ پا کھڑے ہیں اس کے استقبال میں

دل سے پڑھتا ہوں درودِ پاک اُنﷺ کے ذکر پر

اک یہی نیکی ہے میرے نامہِ اعمال میں

لطف و مستی ہے نہ سرشاری ہے پہلے سی کوئی

اب وفا پھندا لگے ہے، دل لگے بھونچال میں

مَیں سراسر سوچ ہوں اور وہ سراپا دل عماد

پھنس گئے دونوں ہی فکر و دل کے اس جنجال میں

عماد احمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(478) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Emad Ahmad, Raz Mazmar Tha Fanaye Jism O Jaan O Maal Mein in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 22 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.1 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Emad Ahmad.