سرحد جلوہ سے جو آگے نکل جائے گی

سرحد جلوہ سے جو آگے نکل جائے گی

وہ نظر جرم رسائی کی سزا پائے گی

چشم ساقی نہ کہیں اپنا بھرم کھو بیٹھے

اور کب تک یہ مری پیاس کو بہلائے گی

جو نظر گزری ہے تپتے ہوئے نظاروں سے

کیا تصور کی گھنی چھاؤں میں سو جائے گی

کیوں رہیں شہر بھی فیضان جنوں سے محروم

عقل دیوانوں پہ پتھر ہی تو برسائے گی

ہے خزاں موسم افسردہ نگاہی کا نام

بجھ گیا شوق تو ہر شاخ جھلس جائے گی

اعزاز افضل

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(502) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ شاعری

Your Thoughts and Comments