Naddi Naddi Run PaRtay HaiN Jab Se Nao Otari Hae

ندی ندی رن پڑتے ہیں جب سے ناؤ اتاری ہے

ندی ندی رن پڑتے ہیں جب سے ناؤ اتاری ہے

طوفانوں کے کس بل دیکھے اب ملاح کی باری ہے

نیند رگوں میں دوڑ رہی ہے پور پور بیداری ہے

جسم بہت حساس ہے لیکن دل جذبات سے عاری ہے

آوازوں کے پیکر زخمی لفظوں کے بت لہولہان

کرتے ہیں اظہار تفنن کہتے ہیں فن کاری ہے

منزل منزل پاؤں جما کر ہم بھی چلے تھے ہم سفرو

اکھڑی اکھڑی چال کا باعث راہ کی ناہمواری ہے

آنکھ تھکن نے کھولی ہے یا عزم سفر نے کروٹ لی

پر پھیلا کر بیٹھو گے یا اڑنے کی تیاری ہے

سچ کہتے ہو نیو میں اس کی ٹیڑھی کوئی اینٹ نہیں

آڑی ترچھی چھت کا باعث گھر کی کج دیواری ہے

کیا کہئے کیوں آج سروں سے زخموں کا بوجھ اٹھ نہ سکا

پتھر تھے لیکن ہلکے تھے پھول ہے لیکن بھاری ہے

بستی بستی قریہ قریہ کوسوں آنگن ہے نہ منڈیر

ذہن خرابہ دل ویرانہ گھر اعصاب پہ طاری ہے

ایک دیا اور اتنا روشن جیسے دہکتا سورج ہو

کہنے والے سچ کہتے ہیں رات بہت اندھیاری ہے

اعزاز افضل

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(418) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ezaz Afzal, Naddi Naddi Run PaRtay HaiN Jab Se Nao Otari Hae in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Sad, Social Urdu Poetry. Also there are 20 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Sad, Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ezaz Afzal.