Hum Dekhte Hain Un Ki Taraf Bar Bar Kiyon

ہم دیکھتے ہیں ان کی طرف بار بار کیوں

ہم دیکھتے ہیں ان کی طرف بار بار کیوں

اپنی نظر پہ ہم کو نہیں اختیار کیوں

وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہو بے قرار کیوں

میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ہو طرحدار کیوں

دریا بہا رہی تو اے چشم زار کیوں

دم بھر بھی ٹوٹتا نہیں اشکوں کا تار کیوں

تم مجھ پہ ڈھا رہے ہو ستم بار بار کیوں

آخر رلا رہے ہو مجھے زار زار کیوں

پژمردہ ہوتے جاتے ہیں گلہائے داغ دل

آتی نہیں چمن میں ہمارے بہار کیوں

کیا پھونک کر رہے گی مرے آشیانے کو

بجلی لپک رہی ہے ادھر بار بار کیوں

وعدہ ہی وعدہ تھا نہ وہ آئے نہ آئیں گے

اے چشم آرزو ہے تجھے انتظار کیوں

اپنی نظر سے پوچھئے حال دل حزیں

بے اختیار کیوں ہے نہیں اختیار کیوں

جب تیری رحمتوں کا نہیں ہے کوئی شمار

عصیاں کا میرے ہوتا ہے یا رب شمار کیوں

کیا ہیں کسی کے گیسوئے مشکیں کھلے ہوئے

ہے گلشن جہاں کی فضا عطر بار کیوں

اپنی طرح مجھے بھی کرے گی تمام کیا

تڑپا رہی ہے مجھ کو شب انتظار کیوں

ہیں یوں تو طرحدار زمانے میں اور بھی

لیکن ہے آپ ہی پہ زمانہ نثار کیوں

زخمی ہیں دونوں کیا ترے تیر نگاہ کے

دل میں خلش ہے اور جگر داغدار کیوں

صابرؔ کی زندگی میں تو پوچھا نہ آپ نے

مرنے کے بعد پوچھ رہے ہیں مزار کیوں

فضل حسین صابر

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(517) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Fazal Husain Sabir, Hum Dekhte Hain Un Ki Taraf Bar Bar Kiyon in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 34 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.2 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Fazal Husain Sabir.