Saed Hon Roz Azal Se Aalam Asbaab Ka

صید ہوں روز ازل سے عالم اسباب کا

صید ہوں روز ازل سے عالم اسباب کا

اور وا رکھتا ہوں سینے میں دریچہ خواب کا

سامنے آتے ہی اس کے میری وحشت جاگ اٹھی

دھیان رہتا تھا مجھے یوں تو بہت آداب کا

کارزار عشق سے باہر نکل کر دیکھیے

ساری بستی میں اجالا ہے اسی کم یاب کا

عالم رویا میں دیکھا تھا جسے میں نے کبھی

عکس ہے اب میری آنکھوں میں اسی محراب کا

آ گیا آخر کتاب عشق کا انجام بھی

دور تک بکھرا ہوا منظر ہے پہلے باب کا

شام ہے اور سرخ پیڑوں کے دہکتے سائے بھی

نیند میں بہتا ہوا دھارا ہے جوئے آب کا

کس لئے ساجدؔ بناتا ہوں گھروندے ریت کے

رخ بدل سکتا ہے تھوڑی دیر میں سیلاب کا

غلام حسین ساجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(408) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ghulam Hussain Sajid, Saed Hon Roz Azal Se Aalam Asbaab Ka in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 88 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ghulam Hussain Sajid.