Sisak Rahi Hain Thaki Hawae Lapat Ke Ounchay Sanobroon Say

سسک رہی ہیں تھکی ہوائیں لپٹ کے اونچے صنوبروں سے

سسک رہی ہیں تھکی ہوائیں لپٹ کے اونچے صنوبروں سے

لہو کی مہکار آ رہی ہے کٹے ہوئے شام کے پروں سے

عجب نہیں خاک کی اداسی بھری نگاہوں کا اذن پا کر

پلٹ پڑیں ایک دن رواں پانیوں کے دھارے سمندروں سے

وہ کون تھا جو کہیں بہت دور کے نگر سے پکارتا تھا

وہ کیا صدا تھی کہ ایسی عجلت میں لوگ رخصت ہوئے گھروں سے

بدن میں پھر سانس لے رہا ہے الاؤ اندھی مسافتوں کا

نگاہ مانوس ہو رہی تھی ابھی پڑاؤ کے منظروں سے

میں ہوں مگر آج اس گلی کے سبھی دریچے کھلے ہوئے ہیں

کہ اب میں آزاد ہو چکا ہوں تمام آنکھوں کے دائروں سے

قلم کے اعجاز سے کسی پر انہیں میں کیا اختیار دوں گا

وہ جن کی تنظیم ہو سکی تھی نہ ان کے اپنے پیمبروں سے

جو ہو سکے تو وجود ہی کی کھری عدالت سے فیصلہ لو

فضول ہے جرم کے نتیجے میں داد خواہی ستم گروں سے

غلام حسین ساجد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(398) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Ghulam Hussain Sajid, Sisak Rahi Hain Thaki Hawae Lapat Ke Ounchay Sanobroon Say in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Social Urdu Poetry. Also there are 88 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.5 out of 5 stars. Read the Social poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Ghulam Hussain Sajid.